.

غزہ:متحارب فلسطینی جماعتوں میں مصالحتی مذاکرات

تنظیم آزادیِ فلسطین کے وفد کی حماس سے بات چیت کے لیے غزہ آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کا ایک وفد اپنی متحارب جماعت اسلامی تحریک مزاحمت حماس کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے لیے غزہ شہر پہنچا ہے۔

2007ء میں فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح اور غزہ کی پٹی کی حکمراں حماس کے درمیان مسلح محاذ آرائی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پی ایل او کا وفد محصور شہر میں مذاکرات کے لیے آیا ہے۔قبل ازیں دونوں متحارب جماعتوں کے لیڈروں کے درمیان فلسطینی علاقوں سے باہر مصر وغیرہ ہی میں مصالحتی مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔

پی ایل اور اور حماس کی قیادت کے درمیان ان مذاکرات میں باہمی اختلافات کے خاتمے کے حوالے سے کسی نمایاں پیش رفت کی توقع نہیں کی جارہی ہے اور بہت سے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے اس ایک دور سے دونوں جماعتوں میں موجود گہرے اختلافات کا خاتمہ اور سیاسی تعطل دور نہیں ہوسکے گا۔

تاہم ان دونوں جماعتوں کی قیادت کے درمیان کسی ڈیل کے نتیجے میں صدر محمود عباس کی غزہ کی پٹی میں بھی عمل داری قائم ہوجائے گی اور انھیں اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات میں تقویت ملے گی لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ حماس اسرائیل کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی کے مذاکرات کی مخالفت کرتی چلی آ رہی ہے اور وہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔ اب اس کے ساتھ فتح کی کسی ڈیل کی صورت میں اسرائیل مغربی کنارے میں سخت ردعمل کا بھی اظہار کرسکتا ہے۔

فتح کے ایک سینیر عہدے دار عزام الاحمد نے اس رائے کو مسترد کردیا ہے کہ صدر محمود عباس کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے حماس کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالا جارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''ہم تو فلسطینی جماعتوں کے درمیان باہمی اختلافات کا خاتمہ چاہتے ہیں،خواہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات ہورہے ہوں یا نہ ہورہے ہوں، ہم اسرائیلی قبضے کا خاتمہ اور غزہ اور مغربی کنارے کی تعمیر چاہتے ہیں''۔

انھوں نے فلسطین کی سرکاری خبررساں ایجنسی وفا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہم ایک ملک ہیں۔ایک ہی لوگ ہیں اور دنیا کی کوئی بھی طاقت ہماری اس مقدس سرزمین کو پامال نہیں کرسکتی۔ہمیں تقسیم کے مکروہ باب کا خاتمہ کرنا ہوگا اور ہم نے جس جس چیز پر بھی دستخط کیے ہیں،اس کو نافذ کرنا ہوگا''۔

دوسری جانب حماس کے سینیر رہ نما اور غزہ کی پٹی میں وزیراعظم اسماعیل ہنئیہ نے کہا کہ ''ہمیں قومی مصالحت کے عمل کو پایہ تکمیل کو پہنچانا چاہیے اور اپنے باہمی اختلافات کا خاتمہ کرنا چاہیے تاکہ ہماری ایک حکومت ہو،ایک قومی سیاسی ایجنڈا اور ایک ہی نظام ہو۔ان مذاکرات میں ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں ہے''۔

واضح رہے کہ حماس اور فتح کے درمیان 2007ء سے کشیدگی چلی آرہی ہے۔تب فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل اور مغربی ممالک کے دباؤ میں آ کر حماس کی منتخب حکومت کو ختم کردیا تھا جس کے ردعمل میں حماس نے غزہ کی پٹی میں اپنی الگ حکومت قائم کرلی تھی اور وہاں سے فتح کے کارکنان کو ماربھگایا تھا۔

اس کے بعد سے دونوں جماعتوں کے درمیان مصالحت کے لیے متعدد کوششیں کی گئی ہیں اور مصر نے 2011ء میں ان کے درمیان ایک مصالحتی معاہدہ بھی کرایا تھا جس کے تحت دونوں جماعتوں نے آزاد ماہرین پر مشتمل نگران حکومت کے قیام اور فلسطینی علاقوں میں نئے صدارتی ،پارلیمانی اور بلدیاتی انتخابات کرانے سے اتفاق کیا تھا لیکن اب تک اس معاہدے پر عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی ہے۔

اسرائیل نے گذشتہ قریباً آٹھ سال سے غزہ کی پٹی کی برّی ،بحری اور فضائی ناکہ بندی کررکھی ہے اور اب مصر کی فوجی حکومت نے غزہ کے ساتھ رفح بارڈر کراسنگ سے آمد ورفت کو محدود کردیا ہے جس کی وجہ سے غزہ کے مکین فلسطینی اور حماس کی حکومت مزید مشکلات سے دوچار ہوگئے ہیں۔

اگر حماس اور فتح کی بالادستی والی پی ایل او کے درمیان کوئی مصالحتی معاہدہ طے پاجاتا ہے یا سابقہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ہی سمجھوتا طے پاجاتا ہے تو اس سے حماس کی سیاسی تنہائی کے خاتمے اور غزہ کے لاکھوں محصور فلسطینیوں کو درپیش گوناگوں مشکلات سے نجات دلانے میں بھی مدد ملے گی۔