.

لندن: تین ہفتوں میں ایک اور اماراتی خاندان پر حملہ

برطانیہ عرب باشندوں کے لیے خطرناک ملک بنتا جا رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لندن میں مقیم ایک اور اماراتی خاندان لوٹ مار کرنے والے تشدد پسند گروہ کی زد میں آ گیا۔ ہتھوڑوں، چاقووں اور بندوقوں سے مسلح سات رکنی گروہ ایک اماراتی خاندان کو اس کے اپارٹمنٹس میں تشدد کا نشانہ بنانے کی کوشش کے بعد قیمتی اشیاء لوٹ کر لے گیا ہے۔

لندن میں امارات کے لوگوں کے ساتھ تین ہفتوں کے دوران پیش آنے والا یہ دوسرا تشدد آمیز واقعہ ہے۔ اس سے پہلے تین اماراتی بہنوں کو ہتھوڑا برداروں نے ان کے ہوٹل میں سخت تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ جبکہ تازہ واقعہ وسطی لندن میں واقع ایک اپارٹمنٹ میں پیش آیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق امارات سے تعلق رکھنے والے ایک میاں بیوی وسطی لندن میں اپنے اپارٹمنٹ میں مقیم ہیں۔ کہ چہروں کو نقاب میں چھپائے ہوئے مسلح افراد اپارٹمنٹ میں داخل ہو گئے۔

اسی دوران اپارٹمنٹ میں مقیم اماراتی شہری نے گھر میں گھسنے والے مسلح افراد میں سے ایک کا نقاب الٹ دیا۔ نقاب الٹے جانے پر اس نے اپے ساتھی کو حکم دیا کہ اماراتی شہری کو گولی مار دو۔ تاہم اس کے ساتھیوں نے ایسا نہ کیا۔ تھوڑی دیر میں قریبی علاقے میں بجنے والے پولیس سائرن کی آواز سن کر مسلح گروہ موقع سے فرار ہو گیا۔

لندن میں امارات کے سفیر عبدالرحمان غنیم المطائوی کا اس واقعے پر کہنا ہے یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے کہ صرف تین ہفتوں میں اس نوعیت کا دوسرا واقعہ پیش آگیا ہے۔ امارات کے سفیر کا مزید کہنا ہے کہ '' پولیس نے اس بارے میں تحقیقات شروع کر دی ہیں اور لوٹی ہوئی کچھ اشیا بھی برآمد کر لی ہیں۔

دریں اثنا امارات کے اس تازہ متاثرہ خاندان کو لندن میں دبئی کے ملکیتی ایک اپارٹمنٹ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے پیش آنے والے واقعے میں تشدد کا نشانہ بننے والی تین بہنوں میں سے ایک کا دماغ ضربیں لگنے سے بری طرح مجروح ہوا ہے۔

ان واقعات کے بعد امارات سے شائع ہونے والے اخبار الرویا نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ چھہتر اعشاریہ پانچ فیصد اماراتی اب برطانیہ جانے کیلیے تیار نہیں ہیں۔ جبکہ 23 فیصد اماراتی شہریوں نے ان واقعات کی تحقیقات کر سست روی پر مبنی قرار دیا ہے۔

واضح رہے امارات اور دیگر اہم عرب ملکوں کے لوگ سیاحت کیلیے برطانیہ جا کر غیر معمولی طور پر اخراجات کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان عرب شہریوں کی وجہ سے لندن میں سروسز سے وابستہ ادارے سالانہ ملینز پاونڈز کماتے ہیں۔ عربوں کو ٹار گیٹ کرنے کے واقعات برطانوی سیاحت سے متعلق شعبوں کیلیے سخت خطرناک ہو سکتے ہیں۔