شامی فوج کا حلب میں اسکول پر فضائی حملہ، 25 ہلاک

وسطی شہر حمص میں کار بم دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد 100 ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے شمالی شہر حلب میں ایک اسکول پر فضائی حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں بچوں سمیت پچیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

شامی فوج گذشتہ کئی روز سے حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر بیرل بموں کے حملے کررہی ہے۔شہر کے علاقے انصاری میں واقع عین جالوت اسکول پر بمباری بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔اسد مخالف کارکنان نے اس حملے کے بعد تصاویر اور ویڈیو فوٹیج جاری کی ہے جس میں جماعتوں کے کمرے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں اور برآمدے کی دیواروں پر بھی خون لگا ہوا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے حملے میں انیس ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے جبکہ حلب میں اسد مخالف میڈیا مرکز کی اطلاع کے مطابق پچیس بچے مارے گئے ہیں۔ویڈیو فوٹیج میں دس پندرہ بچوں کی لاشیں فرش پر رکھی دکھائی گئی ہیں۔

حلب میں یہ فضائی حملہ وسطی شہر حمص میں دو تباہ کن کاربم دھماکوں کے ایک روز بعد کیا گیا ہے،اس بم حملے میں مرنے والوں کی تعداد ایک سو ہوگئی ہے۔یہ دونوں بم دھماکے حمص کے حکومتی کنٹرول والے علاقے عباسیہ میں ہوئے تھے اور آبزرویٹری کے مطابق جہادیوں کے ایک گروپ نے ان کی ذمے داری قبول کی ہے۔

عباسیہ میں زیادہ تر علوی اہل تشیع اور عیسائی آباد ہیں اور یہاں منگل کو ایک مصروف چوراہے کے نزدیک بارود سے لدی دو کاروں کو دھماکوں سے اڑا دیا گیا تھا جن کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت چالیس افراد موقع پر ہی مارے گئے اور ایک سو سولہ زخمی ہوگئے تھے۔شام میں گذشتہ تین سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران حمص میں یہ سب سے تباہ کن بم دھماکے تھے۔قبل ازیں باغی جنگجوؤں اور اسدی فوج کے درمیان اس شہر میں خونریز جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔

درایں اثناء ہیگ میں قائم کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم او پی سی ڈبلیو نے شامی باغیوں اور انسانی حقوق کے کارکنان کی جانب سے اسد حکومت پر عاید کردہ کلورین گیس کے حملوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک مشن شام بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسد حکومت نے اس مشن کو تسلیم کرنے اور اپنے کنٹرول والے علاقوں میں اس کو سکیورٹی مہیا کرنے سے اتفاق کیا ہے۔تاہم اس نے مشن کی شام آمد کی کوئی تاریخ نہیں بتائی ہے اور صرف یہ کہا ہے کہ اس کو جلد بھیجا جائے گا۔

شامی باغیوں اور انسانی حقوق کے کارکنان نے گذشتہ ماہ صدر بشارالاسد کی وفادار فوج پر کلورین گیس کے تین حملے کرنے کے الزامات عاید کیے تھے۔اگر تحقیقات کے بعد ان الزامات کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ اسد حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کی تباہی کے لیے ستمبر 2013ء میں طے پائے معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہوگی اور اس سے یہ بھی ثابت ہوجائے گا کہ اس نے ابھی تک اپنے تمام ہتھیار تباہ کرنے کے لیے اوپی سی ڈبلیو کے مشن کے حوالے نہیں کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں