"امریکا، ایرانی ایٹمی تنصیبات شب بھر میں تباہ کر سکتا ہے"

اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک کا واشنگٹن میں اظہار خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر دفاع و سابق وزیر اعظم ایہود باراک نے کہا ہے کہ امریکا چاہے تو ایران کی تمام اٹیمی تنصیبات راتوں رات تباہ کی جا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام اسرائیلی وجود کے لیے اب بھی خطرہ ہے کیونکہ تہران، تل ابیب کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔

اخبار"یروشلم پوسٹ" کے مطابق ایہود باراک نے ان خیالات کا اظہار واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام اسرائیل کے لیے اب بھی سنگین خطرہ ہے۔ امریکا طاقت کےاستعمال سے تہران کو جوہری طاقت بننے سے روک سکتا ہے۔ واشنگٹن چاہے تو ایک رات سے بھی کم وقت میں ایران کی تمام ایٹمی تنصیبات تباہ کی جا سکتی ہیں"۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے چھ بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان گذشتہ برس نومبر میں طے پائے معاہدے پر کڑی نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ "ایرانی چال باز لوگ ہیں۔ انہوں نے عالمی طاقتوں سے معاہدہ کرکے اپنے جوہری مقاصد کو آگے بڑھانے کی راہ ہموار کی ہے، لیکن میں یقین سے کہتا ہوں کہ یہ معاہدہ ایرانیوں کو بچا نہیں پائے گا بلکہ ان کے لیے سخت تکلیف دہ ثابت ہو گا"۔

ایہود باراک نے امریکی صدر براک اوباما کی ایران بارے پالیسیوں پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اوباما انتظامیہ ایران کو ہر صورت میں جوہری طاقت بننے سے روکنے کے دعوے کر رہی تھی، لیکن اب واشنگٹن کمزوری کا شکارہے۔ صدر اوباما دوسری مدت صدارت کے دوران تہران کے بارے میں نرم پڑتے چلے جا رہے ہیں۔

اسرائیلی ریڈیو کے مطابق وزیر دفاع نے اپنے دورہ امریکا کے دوران وائٹ ہاؤس میں اہم امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں بھی ایران کا جوہری تنازعہ بحث کا اہم موضوع رہا۔ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام بارے تبدیل ہوتی امریکی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

خیال رہے اسرائیلی وزیر دفاع کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دو روز پیشتر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے بھی ایسا ہی ایک بیان جاری کیا تھا۔ نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ ایران اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا ہے۔ تہران کے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کے لیے نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کا اصل مقصد اسرائیل کو ختم کرنا ہے۔ تاہم ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں