.

داعش کا شام چھوڑنے سے انکار،القاعدہ سربراہ پر تنقید

ڈاکٹر الظواہری غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے محمد الجولانی کو تبدیل کریں:ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے خلاف محاذ آراء طاقتور جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) نے خانہ جنگی کا شکار ملک سے نکل جانے سے انکار کردیا ہے اور القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری پر تنقید کی ہے۔

داعش کے ترجمان ابو محمد العدنانی نے ایک آڈیو بیان میں ڈاکٹر ایمن الظواہری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ کے سربراہ محمد الجولانی کو ہٹا دیں۔ترجمان نے القاعدہ کے سربراہ سے مخاطب ہوکر کہا ہے کہ ''شیخ اسامہ بن لادن نے ایک لفظ سے مجاہدین کو جمع کیا تھا لیکن آپ نے انھیں پارہ پارہ کردیا ہے''۔

ان کا یہ آڈیو بیان اتوار کو جہادی فورمز کی ویب سائٹس پر پوسٹ کیا گیا تھا لیکن فوری طورپر اس کے مصدقہ ہونے کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔عدنانی نے اس میں ڈاکٹر ایمن الظواہری کو کھلے لفظوں میں خبردار کیا ہے:''آپ یا تو اپنے غیر لچک داری رویہ ،غلطیوں کا سلسلہ اور مجاہدین کے درمیان باہمی لڑائی جاری رکھیں یا اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں درست کرلیں''۔

داعش کے ترجمان نے مزید کہا کہ ''آپ نے مجاہدین کو افسردہ کردیا ہے اور مجاہدین کے غدار (جولانی) کی حمایت کرکے دلوں کو خون آلود کردیا ہے۔آپ ہی نے تقسیم کو ہوا دی ہے اور اب آپ ہی کو اس کا خاتمہ کرنا ہوگا۔اللہ کے سامنے اپنا محاسبہ کریں اور خود کو درست کریں''۔

عدنانی نے القاعدہ کے سربراہ کا یہ مطالبہ بھی مسترد کردیا ہے جس میں انھوں نے داعش سے کہا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو صرف عراق تک محدود کردے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بالکل ناممکن ہے اور ان کا مطالبہ بالکل غیر مناسب ،غیر حقیقت پسندانہ اور ناجائز ہے۔

اس وقت شام کے مختلف علاقوں میں القاعدہ کی شاخ النصرۃ محاذ اور اس کی حریف دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے درمیان لڑائی جاری ہے اور اس سال کے آغاز کے بعد سے داعش اور دوسری جہادی تنظیموں کے درمیان خونریز جھڑپوں میں چار ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔

عراق کی سرحد کے نزدیک واقع شامی صوبے دیرالزور میں ان دونوں متحارب جنگجو گروپوں کے درمیان مئی کے آغاز کے بعد سے جاری خونریز جھڑپوں کے نتیجے میں ساٹھ ہزار سے زیادہ افراد اپنا گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور اس محاذ پر حالیہ لڑائی میں طرفین کے بیسیوں جنگجو مارے گئے ہیں۔

القاعدہ کے سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری نے گذشتہ ہفتے آن لائن جاری کردہ ایک آڈیو پیغام میں شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف برسرپیکار النصرۃ محاذ کو حریف جہادی گروپوں کے ساتھ لڑائی بند کرنے کا حکم دیا تھا اور اس سے کہا تھا کہ وہ شامی حکومت کے خلاف لڑائی پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔

القاعدہ کے سربراہ کی اس اپیل کے جواب میں النصرۃ محاذ نے کہا تھا کہ اگر داعش حملوں سے باز آجاتی ہے تو وہ بھی لڑائی ختم کرنے کو تیار ہے۔اس تنظیم نے ایک بیان میں کہا کہ ''ہم ایمن الظواہری کے احکامات کی پیروی کریں گے اور داعش پر حملے روک دیں گے لیکن ان کی جانب سے مسلمانوں پر حملہ ہوتا ہے تو پھر اس کا جواب دیا جائے گا اور داعش کے خلاف انھی علاقوں میں لڑائی کی جائے گی جہاں یہ مسلمانوں پر حملے کرے گی''۔

شام کے مختلف علاقوں میں النصرۃ محاذ اور دولت اسلامی عراق وشام سے وابستہ جنگجوؤں کی باہمی لڑائی سے شامی فوج کو نمایاں فائدہ ہوا ہے اور اس نے جہادیوں میں باہمی انتشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے زیر قبضہ بہت سے علاقے واپس لے لیے ہیں۔

واضح رہے کہ صدر بشارالاسد کے خلاف تین سال قبل مسلح تحریک کے آغاز کے وقت شام کے دوسرے باغی گروپوں نے عراق سے تعلق رکھنے والی جنگجو تنظیم داعش کا خیرمقدم کیا تھا لیکن اس کے جنگجوؤں نے کچھ عرصے کے بعد ہی دوسرے باغی گروپوں کے خلاف محاذ کھول لیا تھا۔

اس دوران اس نے عام شہریوں کو بھی سفاکانہ انداز میں سزائیں دینا شروع کردیں جس پر اس کے خلاف دوسری جہادی تنظیمیں اٹھ کھڑی ہوئیں اور القاعدہ نے بھی اس سے لاتعلقی ظاہر کردی تھی۔القاعدہ کے سربراہ نے داعش سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ خود کو صرف عراق تک محدود رکھے اور شام سے نکل جائے لیکن اس نے یہ اپیل مسترد کردی تھی۔