.

السیسی کی انسدادِ ہراسیت کے لیے سخت اقدام کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے نئے صدر عبدالفتاح السیسی نے اپنا منصب سنبھالنے کے دو روز بعد سب سے بڑے سماجی مسئلے جنسی ہراسیت سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

صدارتی ترجمان ایہاب بداوی نے منگل کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ صدر السیسی نے وزیر داخلہ کو جنسی ہراسیت کے خاتمے کے لیے نئے قانون پر فیصلہ کن انداز میں عمل درآمد کی ہدایت کی ہے۔اس قانون کے تحت خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے مجرموں کو پانچ سال تک قید کی سزا سنائی جاسکے گی۔

مصری صدر کی جانب سے یہ بیان گذشتہ اتوار کو ان کی حلف برداری کے موقع پر دارالحکومت قاہرہ کے میدان التحریر میں عوامی اجتماع کے دوران خواتین کو ہراساں کیے جانے کے متعدد واقعات کے بعد سامنے آیا ہے۔

میدان التحریر میں اوباشوں کے ایک گروہ نے ایک خاتون اور اس کی انیس سالہ بیٹی پر مجرمانہ حملہ کیا تھا اور اس لڑکی کا تن کا لباس تار تار کردیا تھا۔ترجمان کے مطابق صدرعبدالفتاح السیسی نے وزیر داخلہ محمد ابراہیم کو ہدایت کی ہے کہ اس لڑکی کو بچانے والے پولیس اہلکار کو اعزاز سے نوازا جائے۔

پولیس نے اس مجرمانہ حملے کے الزام میں سات افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور پراسیکیوٹرز سے ان مشتبہ ملزموں سے تفتیش کے لیے کہا گیا ہے۔گرفتار افراد جنسی ہراسیت کے تین اور کیسوں میں بھی پولیس کو مطلوب تھے۔ان ملزموں کی عمریں 16 سے 49 سال کے درمیان ہیں۔انھوں نے صدر عبدالفتاح السیسی کی حلف برداری کی خوشی میں میدان التحریر میں جشن منانے والے ان کے حامیوں کے اجتماع کے دوران متعدد لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا تھا۔

گذشتہ ہفتے سبکدوش ہونے والے صدر عدلی منصور نے جنسی ہراسیت کے مرتکبین کو سزائیں دینے کے لیے ایک قانون پر دستخط کیے تھے۔اس کے تحت اس جرم میں ملوث افراد کو بھاری جرمانے اور لمبی قید کی سزائیں سنائی جاسکیں گی۔