"جنسی زیادتی کی شکار مصری خاتون کی ویڈیو ہٹائی جائے"

مصری حکومت نے یو ٹیوب انتظامیہ سے رابطہ کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مصر میں بڑھتی ہوئی جنسی بے راہ روی اور خواتین کو جنسی اعتبار سے ہراساں کرنے کے واقعات میں غیر معمول اضافے کے بعد حکومت نے یو ٹیوب انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تحریر چوک پر خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کے اندوہناک واقعے کی ویڈیو ہٹا دی جائے۔

واضح رہے قاہرہ کے مشہور تحریر چوک پر نئے صدر عبدالفتاح السیسی کے حامی ان کے حلف صدارت کے موقع پر ہزاروں کی تعداد میں جمع تھے کہ ایک حامی خاتون کے ساتھ غیر معمولی حد تک دست اندازی کی گئی۔

ایک حالیہ عالمی رپورٹ کے مطابق مصر کی 90 فیصد خواتین کو کسی نہ کسی موقع پر جنسی طور پر ہراساں ہونا پڑتا ہے۔

بھرے جلسوں اور ریلیوں کے دوران بھی اس نوعیت کا پیش آنے والا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ صدر کے ترجمان ایہاب بداوی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''واشنگٹن میں مصری سفارت خانے نے یو ٹیوب انتظامیہ سے اس سلسلے میں رابطہ کیا ہے۔''

اطلاعات کے مطابق یو ٹیوب انتظامیہ نے ایسی ویڈیو ہٹا دی ہے جس میں جنسی طور پر ہراساں ہونے والی خاتون کی شناخت واضح طور پر نظر آتی ہے۔ تاہم ایسی ویڈیوز ابھی بھی اپ لوڈ رکھنے کی اجازت دی گئی ہے جن تصاویر میں خاتون کا چہرہ واضح نہیں ہے۔

یو ٹیوب انتظامیہ کا اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ ''ہم انفرادی حقوق کا احترام کرتے ہیں اس لیے ہم نجی زندگی متاثر ہونے کی شکایت پر پہلے ہی وہ ویڈیو اتار چکے ہیں جس سے واضح طور پر متاثرہ خاتون کی شناخت ہو سکتی تھی۔"

بداوی کے مطابق تحریر چوک جشن کے دوران متاثر ہونے والی خاتون نے صدر السیسی سے مذکورہ ویڈیو اس وقت ہٹوانے کا مطالبہ کیا تھا جب صدر السیسی اس کی عیادت کے لیے ہسپتال گئے تھے۔

اس ویڈیو کے حوالے سے متاثرہ لڑکی کی والدہ نے صدر سے کہا تھا میری بیٹی اس ویڈیو کی وجہ سے ہر روز مر رہی ہے۔

اس پر صدر السیسی نے کہا تھا ''میں ہسپتال میں عیادت کے لیے اس واسطے آیا ہوں کہ ہر مصری خاتون کو بتا سکوں کہ میں ہراساں کیے جانے کے واقعات پر ہر مصری خاتون سے سے معافی چاہتا ہوں ۔''

واضح رہے مصر میں سیاسی جلسوں اور ریلیوں کے دوران جنسی جبر کے واقعات حالیہ برسوں میں شروع ہوئے ہیں تازہ واقعہ السیسی کے جیت کی خوشی منانے والوں کی ریلی میں ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں