ڈاکٹر مرسی کے مزید 12 حامیوں کو سزائے موت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مصر کی ایک فوجداری عدالت نے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے مزید بارہ حامیوں کو ایک پولیس اسٹیشن پر حملے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

استغاثہ کے مطابق مدعاعلیہان نے جیزہ گورنری میں واقع ایک قصبے کرادسہ میں سکیورٹی فورسز کے جنگجوؤں کے ایک ٹھکانے پر چھاپہ مار کارروائی کے بعد ایک پولیس اسٹیشن پر جوابی حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں جیزہ کے ڈپٹی سکیورٹی ہیڈ میجر جنرل نبیل فراج مارے گئے تھے۔پراسیکیوٹرز نے عدالت میں تئیس ملزمان کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔

مدعا علیہان پر سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے لیے ایک دہشت گرد گروہ کی تشکیل کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ ان پر دہشت گردی کے لیے رقوم اکٹھا کرنے ،غیر قانونی گروپ کی تشکیل ،سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے ،اقدام قتل اور اسلحہ رکھنے کے الزامات میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ مدعاعلیہان جہادی نظریے سے متاثر تھے اور اسی کے زیر اثر وہ سکیورٹی فورسز اور عیسائیوں پر حملے کررہے تھے۔مصری قانون کے تحت مدعاعلیہان کو ان سزاؤں کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے اور عدالتی فیصلے کو توثیق کے لیے ملک کے مفتی کے پاس بھی بھیجا جائے گا۔پھر اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال جولائی میں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد احتجاج کے دوران مسلح افراد نے کرادسہ پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں میجر جنرل نبیل فراج ہلاک اور دس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔یہ واقعہ جیزہ اور قاہرہ میں ڈاکٹر مرسی کے حامیوں کے دو دھرنوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے خونیں کریک ڈاؤن کے بعد پیش آیا تھا۔

مارچ میں مصر کی ایک عدالت نے ڈاکٹر مرسی کے 529 حامیوں کو ایک پولیس افسر کو قتل کرنے کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی لیکن بعد میں عدالت نے ان میں سے سینتیس افراد کی پھانسی کی سزا بحال رکھی تھی اور باقی افراد کی سزا کم کرکے عمر قید میں تبدیل کردی تھی۔

اس کے ایک ماہ کے بعد عدالت نے ڈاکٹر مرسی کے 683 حامیوں کو ایک پولیس اسٹیشن پر حملے اور ایک پولیس افسر کو قتل کرنے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔اخوان المسلمون کے حامیوں اور کارکنان کو اس طرح تھوک کے حساب سے سنائی گئی پھانسیوں کی سزاؤں پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے تنقید کی ہے اور عدالتی فیصلوں پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں