.

عراق کے وجود کو داعش سے خطرات لاحق ہیں: جان کیری

داعش کے جنگجوؤں کا شامی سرحد کے نزدیک واقع شمالی شہر تل عفر پر مکمل قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں القاعدہ سے متاثر جنگجو تنظیم دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کی وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت میں سرکاری فوج کے مقابلے میں حالیہ پے درپے فتوحات پر عالمی سطح پر گہری تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے اور امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے خبردار کیا ہے کہ داعش سے عراق کے وجود کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

مسٹر جان کیری عراق میں داعش کی پیش قدمی کا توڑ کرنے اور اس کو روک لگانے کے لیے خطے کے دورے پر ہیں اور انھوں نے اس ضمن میں علاقائی لیڈروں سے مشاورت کی ہے۔انھوں نے سوموار کو بغداد کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''عراقی لیڈروں کے لیے فیصلہ کرنے کا مرحلہ آگیا ہے۔عراق کے وجود کو خطرات لاحق ہیں اور عراقی لیڈروں ہی کو ان خطرات سے نمٹنا ہوگا''۔

انھوں نے امریکا کی جانب سے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں عراق کی مستقل طور پر مدد مہیا کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ ''اگر عراق کے لیڈر ملک کو اکٹھا رکھنے کے لیے اقدامات کرتے ہیں تو یہ زیادہ موثر ہوں گے''۔

مسٹر جان کیری داعش کے جنگجوؤں کی گذشتہ ہفتے عشرے کے دوران شمالی عراق میں جنگی فتوحات کے تناظر میں بغداد پہنچے تھے اور انھوں نے عراقی وزیراعظم نوری المالکی سے ملک کی صورت حال اور داعش کی کارروائیوں کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

درایں اثناء عراقی فوج نے داعش کے جنگجوؤں کی شام کی سرحد کے ساتھ واقع ایک گذرگاہ پر قبضے کی تصدیق کردی ہے اور وہاں تعینات فوجی اردن کی سرحد کی جانب چلے گئے ہیں۔العربیہ نیوز چینل نے اتوار کوعراقی فوج کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ سیاہ نقاب پوش جنگجوؤں نے شام کے ساتھ واقع طریبیل بارڈر کراسنگ اور اردن کے ساتھ واقع الولید بارڈر کراسنگ پر قبضہ کر لیا ہے۔

داعش کے جنگجوؤں نے آج عراق کے شیعہ اکثریتی شمالی شہر تل عفر اور اس کے ہوائی اڈے پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ایک مقامی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ تل عفر اور اس کے ہوائی اڈے پر جنگجوؤں کا مکمل کنٹرول ہوچکا ہے۔انھوں نے عراقی فوج کے ساتھ کئی روز کی سخت لڑائی کے بعد اس شہر پر قبضہ کیا ہے۔

لیکن اس کے باوجود وزیراعظم نوری المالکی کے سکیورٹی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل قاسم عطا نے سرکاری ٹیلی ویژن پر دعویٰ کیا ہے کہ تل عفر میں لڑائی جاری ہے اور وہاں داعش کے جنگجوؤں کا قبضہ نہیں ہوا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ''اگر ہم تل عفر یا کسی اور علاقے کو خالی بھی کردیتے ہیں تو اس کا مطلب شکست نہیں ہے''۔

تاہم اس ٹیلی ویژن نشریے میں جنرل قاسم عطا نے یہ اعتراف کیا ہے کہ سنی عرب جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی میں سیکڑوں عراقی فوجی مارے گئے ہیں۔واضح رہے کہ تل عفر شام کی سرحد کے نزدیک واقع ہے اور داعش کے جنگجوؤں کا صوبے نینویٰ میں واقع تزویراتی اہمیت کے حامل اس اہم شہر پر ابھی تک قبضہ نہیں ہوا تھا۔

عراق میں جاری اس خانہ جنگی اور شورش پسندی کے حوالے سے ایک اور خبر یہ ہے کہ اس کی وجہ سے سوموار کو بیشتر عالمی اسٹاک مارکیٹیں بیٹھ گئی ہیں۔سرمایہ کار عراق میں جاری تشدد کے واقعات پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اگر بدامنی جاری رہتی ہے تو اس سے پورے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہوجائے گا اور یہاں سے عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی برآمدات میں بھی کمی واقع ہوجائے گی جس سے لامحالہ تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔