عراق: نامعلوم طیاروں کی داعش کے ٹھکانوں پر بمباری
عراق کے شمالی شہر القائم میں نامعلوم جنگی طیاروں نے دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔
عراق کے ایک ٹیلی ویژن چینل کی اطلاع کے مطابق امریکی جیٹ طیاروں نے یہ بمباری کی ہے جبکہ وائٹ ہاؤس نے عراق میں امریکی طیاروں کے کسی فضائی حملے کی تردید کی ہے۔
قبائلی ذرائع نے العربیہ نیوز کو بتایا ہے کہ شام کے جنگی طیاروں نے عراق کے علاقے میں یہ فضائی حملہ کیا ہے۔اس فضائی بمباری میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع نہیں ہے۔
العربیہ نیوز کے نمائندے نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے تحت فضائیہ نے بغداد سے دو سوکلومیٹر شمال میں واقع شہر بیجی پر بمباری کی ہے۔داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ ہفتے سے شہر میں واقع تیل صاف کرنے کے کارخانے پر قبضہ کررکھا ہے۔
ادھر تہران میں متعین عراقی سفیر محمد مجید الشیخ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نے ایران سے سنی جنگجوؤں کے خلاف مدد کے لیے نہیں کہا ہے۔انھوں نے یہ بیان ایرانی لیڈروں کی جانب سے عراق کو سنی جنگجوؤں کی مزاحمت کو کچلنے کے لیے مدد کی پے درپے پیش کشوں کے بعد جاری کیا ہے۔
درایں اثناء اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ عراق میں رواں ماہ تشدد کے واقعات میں ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔ان میں زیادہ تعداد عام شہریوں کی ہے۔دسمبر 2011ء میں امریکی فوج کے عراق سے انخلاء کے بعد ایک ماہ میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔
-
عراق کے وجود کو داعش سے خطرات لاحق ہیں: جان کیری
داعش کے جنگجوؤں کا شامی سرحد کے نزدیک واقع شمالی شہر تل عفر پر مکمل قبضہ
مشرق وسطی -
داعش کا عراق کی دو سرحدی گذرگاہوں پر کنٹرول
عراقی فوج نے اردن اور شام کے ساتھ واقع بارڈر کراسنگز پر قبضے کی تصدیق کر دی
مشرق وسطی -
داعش نے عراق و شام کی 1932ء کی سرحدی لکیر مٹا دی
اہم سرحدی چوکی پر قبضہ، بغداد میں شیعہ ملیشیا کا گشت
بين الاقوامى -
عراق کی سب سے بڑی آئل ریفائنری پر داعش کا قبضہ
جنگجوٶں نے بیجی ریفائنری کے 75 فیصد حصے کا کنڑول حاصل کر لیا
مشرق وسطی -
شمالی عراق کے 3 شہروں پر جنگجووں کا قبضہ
خویریز لڑائی میں داعش کے ہاتھوں 20 شہری قتل
مشرق وسطی -
عراق: چار سینیر سکیورٹی کمانڈر برطرف
داعش کے جنگجوؤں کا میدانِ جنگ میں مقابلہ کرنے کے بجائے بھاگ گئے تھے
مشرق وسطی