صدر السیسی کا نصف تنخواہ سے دست بردار ہونے کا اعلان

مصری عوام سے بھی ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے قربانیوں کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مصر کے نئے صدر عبدالفتاح السیسی نے اپنی نصف تنخواہ اور جائیداد سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا ہے اور عوام سے بھی بحران سے دوچار ملکی معیشت کو بچانے کے لیے ایسی ہی قربانیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

صدر السیسی نے یہ اعلان قاہرہ میں ملٹری گریجو ایشن تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ وہ بہ ذات خود ایک مثال قائم کرتے ہوئے اپنی تن خواہ سے دستبردار ہورہے ہیں۔انھوں نے سرکاری شعبے میں زیادہ تن خواہیں لینے والے افسروں سے بھی اپنی تقلید کرنے کا کہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ہر مصری مرد اور عورت کو حقیقی قربانیاں دینی چاہئیں۔میں زیادہ سے زیادہ تن خواہ بیالیس ہزار پاؤنڈز لیتا ہوں اور کوئی بھی اس تنخواہ سے زیادہ نہیں لے گا''۔

انھوں نے کہا کہ ''اب میں دو کام کرنے جارہا ہوں۔میں مذکورہ رقم میں سے نصف نہیں لوں گا اور میں اپنی نصف جائیداد بھی نہیں لوں گا حالانکہ وہ میں نے اپنے والد سے ورثے میں پائی ہے لیکن میں اس میں سے نصف کو اپنے ملک کے لیے دے رہا ہوں''۔

مصر کے نئے صدر کا کہنا تھا کہ انھوں نے نئے مالی سال کے مجوزہ بجٹ پر اسی ہفتے ماہرین سے طویل تبادلہ خیال کیا ہے۔ان کے اس تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے معاشی اصلاحات کا ارادہ رکھتے ہیں جن کے تحت ایندھن کی قیمت پر دیا جانے والا زرتلافی بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے اپنے سامعین کو بتایا کہ انھیں مصری بچوں کا مستقبل عزیز ہے اور وہ ان کے لیے کچھ اچھا چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن اگر قرضے اسی طرح دگنا تین گنا ہوتے رہے تو پھر ہم اپنے بچوں کے لیے کچھ بھی اچھا نہیں چھوڑ سکیں گے۔

انھوں نے مصر کی تباہ حال معیشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی بحالی کے لیے تمام مصریوں کو قربانیاں دینا ہوں گی۔انھوں نے اندرون اور بیرون ملک مقیم مصریوں سے ذاتی قربانیاں دینے کے لیے کہا ہے۔

واضح رہے کہ مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے مئی میں ایک صدارتی فرمان کے ذریعے صدر کی تنخواہ بڑھا کر 2957 ڈالرز (21 ہزار مصری پاونڈز) کردی تھی اور اتنی ہی رقم کے تفریح کے نام پر الاؤنسز بھی تن خواہ میں شامل کردیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں