ہادی البحرہ شامی نیشنل الائنس کے نئے صدر منتخب

سعودی عرب میں مقیم نئے سربراہ کے ریاض سے وسیع تعلقات ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے مغربی حمایت یافتہ حکومت مخالف اتحاد نینشل کونسل نے احمد الجربا کی جگہ ہادی البحرہ کو اپنا نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔

ہادی البحرہ شامی تنازع کے حل کی خاطر جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں اپوزیشن اتحاد کے اعلی مذاکرات کار کے طور پر اپنی صلاحیت کا لوہا منوا چکے ہیں۔ کونسل کے ایک بیان میں بدھ کے روز بتایا گیا کہ ہادی البحرہ کو اتحاد کے استنبول میں ہونے والے تین روزہ اجلاس کے اختتام پر بذریعہ خفیہ ووٹنگ منتخب کیا گیا۔

امریکا سے صنعتی انجیئرنگ میں اعلی تعلیم یافتہ ہادی البحرہ کے بھی اپنے پیش رو احمد الجربا کی طرح سعودی عرب سے انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔ وہ ماضی سعودی عرب ہی میں مقیم رہے ہیں۔

شامی قومی اتحاد کے فیس بک پیج نے بدھ کے روز جاری کردہ ایک پوسٹ میں اعلان کیا ہے کہ" ہادی البحرہ نے 62 ووٹوں سے قومی اتحاد کا صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔"

شامی قومی اتحاد امریکا اور دوسرے اہم ممالک کی جانب سے شامی حزب اختلاف کی نمائندگی کے لئے منتخب کئے جانے کے باوجود شام کے اندر اپنا اثر و رسوخ قائم نہیں کرسکا ہے۔ شام میں مختلف مسلح گروپوں نے قومی اتحاد سے الگ ہو کر اپنے علاقے قائم کر رکھے ہیں جہاں پر ان کا قانون چلتا ہے۔

شامی قومی اتحاد میں پیدا ہونے والی اندرونی خلفشار نے بھی شامی سرکاری فوج کے خلاف اس کی کارروائیوں پر بہت زیادہ اثر ڈالا ہے اور اس کے علاوہ اس کی حریف تنظیموں کی جانب سے بھی اسے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن کی صفوں میں غیر ملکی جنگجو بھی شامل ہیں۔

امریکا اور روس نے تین سال سے جاری اس سول جنگ کو ختم کرنے کے لئے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا کہ جو کہ جنوری اور فروری میں ہونے والے دو رائونڈز میں قومی اتحاد اور بشار الاسد کے نمائندوں کی جانب سے غیر معمولی پیش رفت دکھانے میں ناکامی کے بعد رک گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں