اسرائیل بمباری سے 70% غزہ اندھیرے میں ڈوب گیا

اردن، مصر، یو اے ای اور امریکی وزرائے خارجہ کے رابطے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی پٹی میں الیکٹرک سٹی اٹھارتی کے ڈپٹی چیئرمین فتحی الشیخ خلیل نے بتایا ہے کہ اسرائیلی جارحیت اور بین الاقوامی محاصرے کے شکار شہر کا 70 فیصد حصہ اندھیرے میں ڈوب چکا ہے کیونکہ آٹھ جولائی کو شہر میں شروع ہونے والی جارحیت کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کو بجلی کی فراہمی منقطع کر دی ہے۔

فتحی الشیخ خلیل نے بتایا کہ اسرائیل سے غزہ کو بجلی فراہم کرنے والی دس کی دس ٹرانسمیشن لائنز بمباری اور گولا باری کی وجہ سے بند پڑی ہیں۔

بقول الشیخ خلیل: "اسرائیلی پاور اٹھارتی سے غزہ کو 120 میگا واٹ بجلی فراہم کی جاتی تھی لیکن جنگ کے آغاز کے بعد سے تمام سپلائی معطل چلی آ رہی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ ریڈ کراس کے توسط سے غزہ پاور اٹھارتی نے اسرائیل سے رابطہ کیا ہے تاکہ فنی عملے کو معطل شدہ ٹرانمیشن لائنز ٹھیک کرانے بھیجا جا سکے۔ غزہ کی پٹی کے شمالی علاقے اور سرحد کے پاس واقع دوسرے علاقوں میں بمباری اور گولا باری سے ٹرانسمیشن لائنز خراب چلی آ رہی ہیں۔

غزہ الیکٹرک سٹی اتھارٹی کی ویب سائٹ پر فراہم معلومات کے مطابق 1.8 ملین نفوس پر مشتمل شہر کو اس وقت 65 میگا واٹ کے ایک پلانٹ سے بجلی جزوی طور پر فراہم کی جا رہی ہے جبکہ علاقے کی پاور ضروریات کے لئے اسرائیل 120 میگا واٹ جبکہ مصر 22 میگا واٹ بجلی فراہم کرتا ہے۔ علاقے کی بجلی کی ضروریات 280 سے 320 میگا واٹ ہے۔

ادھر جمعہ کے روز متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ الشیخ عبداللہ بن زاید آل نھیان نے اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ سعود الفیصل سے ٹیلی فون پر غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اماراتی وزیر خارجہ نے بعد میں مصری ہم مںصب سامح شکری اور امریکی وزیر خارجہ جون کیری سے بھی تبادلہ خیال کیا۔

درایں اثنا اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون نے غزہ پر شروع کردہ اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ غزہ حملے پر ردعمل دیتے ہوئے اردن نے بھی اقوام متحدہ میں عربوں کے نمائندے کے طور سیکیورٹی کونسل کا فوری اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تاکہ غزہ کی صورتحال پر غور کیا جا سکے۔ مصر نے بھی غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے زمینی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں