الشجاعیہ کی سڑکیں لاشوں سے بھر گئیں، فلسطینیوں کا فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ سے 'العربیہ' کی نامہ نگار کا کہنا ہے اتوار کے روز ہزاروں فلسطینی غزہ کی مشرقی کالونی الشجاعیہ کو چھوڑ کر راہ فرار اختیار کر رہے ہیں۔ وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کی جانب سے الشجاعیہ کالونی کو مسلسل نشانہ بنانے کی وجہ سے سڑکوں پر لاشیں بکھری پڑی ہیں جبکہ سیکڑوں زخمی علاج کے منتظر ہیں۔ اتوار کے روز چالیس لاشیں متاثرہ علاقے سے نکالی جا چکی ہیں۔

اسرائیلی سرحد کے قریب اور مسلسل بمباری کے باعث علاقے میں ایمبولینس گاڑیاں نہیں پہنچ پا رہیں۔ ایمرجنسی سروس اداروں کا کہنا ہے موجودہ صورتحال میں بہت سے فلسطینیوں کے شہید اور زخمی ہونے کا امکان ہے۔

اسرائیلی فوج نے غزہ کے وسطی علاقوں البریج، المغازی اور شمالی کالونی الترکمان، الجدیدہ اور الشجاعیہ کالونیوں کے رہائشیوں کو علاقہ چھوڑ دینے کے لئے کہا تھا۔ غزہ کی پٹی 362 مربع کلومیٹر پر محیط دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا علاقہ ہے جس میں اٹھارہ لاکھ افراد مسلسل مشکلات میں زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔

اقوام متحدہ کے غزہ دفتر کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ابتک 62 ہزار افراد سرحدی علاقہ چھوڑ چکے ہیں اور یہ تعداد سنہ 2008-2009 کی جنگ کے دوران ہجرت کرنے والے افراد سے بہت زیادہ ہے، اس وقت جنگ میں چودہ سو فلسطینی شہید ہوئے تھے۔

ہفتے کا دن غزہ کی پٹی میں انتہائی خونی ثابت ہوا۔ اس روز اسرائیلی طیاروں کی بمباری اور اسرائیلی توپخانے کی گولہ باری سے دسیوں فلسطینی جام شہادت نوش کر گئے۔ آٹھ جولائی کو شروع ہونے والے اسرائیلی حملے کے بعد ابتک 350 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ بین الاقوامی برادری مسلسل جنگ بندی کی اپیلیں کر رہی ہے۔

ادھر اسرائیل نے اپنا زمینی آپریشن وسیع کرنے کا اعلان کیا ہے کیونکہ مشرقی غزہ میں اسرائیلی سرحد کے قریب بنائی گئی سرنگوں کو فضائی بمباری سے تباہ کرنا ممکن نہیں، اس کے لئے زمینی دستے علاقے میں بھیجنا ضروری ہے۔ اسرائیل نے اپنی فوجی کارروائی میں وسعت کے فیصلے کے بعد ابتک ریزرو فوج کے 53200 فوجیوں کو متحرک کیا ہے۔

غزہ کے خلاف اسرائیلی زمینی آپریشن میں توسیع

صہیونی فوج کے ترجمان کے مطابق ابھی تک اسرائیلی سرحد کے قریب واقع شہری علاقوں کے نواح میں ٹینک اور توپیں کسی بھی کارروائی کے لئے موجود ہیں۔

سفارتی سطح پر حماس کی جانب فائر بندی کا مصری منصوبہ تسلیم کرنے سے انکار کے بعد ابھی تک کوئی قابل پیش رفت ممکن نہیں ہو سکی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں