چار گھنٹوں کی فائر بندی اسرائیلی ڈرامہ ہے: حماس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسلامی تحریک مزاحمت"حماس" نے اسرائیلی فوج کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غزہ کی پٹی میں چار گھنٹے کے لیے جنگ بندی کے اعلان کو مسترد کر دیا ہے۔

حماس کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابو زھری کا کہنا ہے کہ "اسرائیلی دشمن کی جانب سے چار گھنٹے کی جنگ بندی ایک فریب اور دھوکا ہے۔ فلسطینی عوام اور مزاحمت کار دشمن کے کسی دھوکے میں نہیں آئیں گے۔"

"یہ کیسی جنگ بندی ہے کہ غزہ کے پورے علاقے میں بغیر کسی وقفے کے بمباری اور معصوم شہریوں کا قتل عام ہو رہا ہے اور پھر بھی جنگ بندی کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔ حماس کو یہ ڈرامہ کسی صورت میں قبول نہیں ہے۔"

ایک بیان میں حماس کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل نے چار گھنٹے کی جنگ بندی میں غزہ کے سرحدی علاقوں کو شامل نہیں کیا ہے، جس کے نتیجے میں بمباری میں زخمی ہونے والے شہریوں تک امدادی کارکنوں کو رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے بدھ کی شام جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ فوج گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق 12 تا 16 بجے تک مخصوص علاقوں میں حملے روک دے گی۔ حماس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی جنگ بندی کے پابند نہیں ہیں۔ غزہ میں جہاں بھی حملہ ہو گا مزاحمت کار اس کا منہ توڑ جواب دیں گے۔

درایں اثناء اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ المعروف 'کیبنٹ' نے میں اگلے دو دنوں کے دوران جنگ بندی یا غزہ میں زمینی آپریشن کو مزید وسعت دینے پر غور کیا ہے۔ تاہم اجلاس بغیر کسی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو گیا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو اور وزیر دفاع موشے یعالون نے مصری جنگ بندی فارمولے کی حمایت کی ہے۔

اسرائیل کے ایک عبرانی اخبار "ہارٹز" نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ وزارت خارجہ نے وزیر اعظم نیتن یاھو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کے مطالبے پر عمل درامد کرتے ہوئے غزہ میں فوج فوجی کارروائی روک دے۔

ادھر رات گئے اسرائیلی فوج کے حملوں میں مزید نو فلسطینی شہید ہو گئے۔ شہداء میں سات کا تعلق ایک ہی خاندان سے بتایا جاتا ہے، جنہیں جنوبی غزہ میں خان یونس کے مقام پر بمباری میں شہید کر دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں