.

سابق وزیراعظم سعد الحریری کی تین سال بعد لبنان واپسی

انتہا پسندوں کے مقابل سنیوں کی قیادت کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے سابق وزیر اعظم سعد الدین الحریری تین برس بعد جمعہ کے روز لبنان واپس پہنچ گئے ہیں۔ ان کی واپسی کو سنی سیاست میں قائدانہ اپنا اثر رسوخ بحال کرنے کے حوالے سے دیکھا جا رہا ہے۔

لبنان کے شمال مشرق میں اسلامی انتہا پسندوں کی شدت پسندانہ مداخلت کے بعد سعدالحریری کی آمد ان کے حامی حلقوں کے مطابق ضروری ہو گئی تھی۔ تاہم ان کی طویل عرصے کے بعد وطن واپسی کا پہلے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی ان کے استقبال کی بظاہر تیاری کی گئی تھی۔

جمعہ کے روز اپنی اچانک لبنان آمد کے بعد حکومتی ہیڈ کوارٹرز میں انہوں نے وزیر اعظم تمام سلام سے ملاقات کی۔

سعدالحریری لبنان میں سنی سیاست کے اعتبار سے موثر ترین سمجھے جاتے ہیں۔ وہ تین سال سے خود ساختہ طور پر جلاوطن تھے۔ انہوں نے یہ عرصہ فرانس اور سعودی عرب میں گزارا ہے۔

سعودی حمایت یافتہ سعد الحریری کی حکومت 2011 میں حزب اللہ اور اور اتحادیوں کے ہاتھوں ختم ہوئی تھی ۔ تب سے وہ ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

ملک سے طویل غیر حاضری کی وجہ سے سنی مسلمان ایک اہم قائد سے محروم ہو گئے تھے۔ اس کا ایک نقصان یہ ہوا کہ انتہا پسندوں کو کام کا زیادہ موقع مل گیا۔

سعدالحریری ایسے وقت میں واپس پہنچے ہین جب شام اور عراق کے بعد اسلامی انتہا پسندوں نے لبنان کی طرف بھی کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔