گولان : اقوام متحدہ کے 43 امن فوجی یرغمال

النصرۃ کے جنگجو سرحدی چوکی پر قبضے کے بعد فوجیوں کو ساتھ لے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ نے اسرائیل کے زیر قبضہ شامی علاقے گولان کی چوٹیوں پر تعینات اپنے تینتالیس امن فوجیوں کو یرغمال بنائے جانے کی تصدیق کی ہے۔

ان فوجیوں کو جمعرات کی صبح شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف برسرپیکار مسلح جنگجو گروپ النصرۃ محاذ نے گولان کی چوٹیوں پر اسرائیل اور شام کے درمیان واقع سرحدی گذرگاہ القنيطرہ پر قبضے کے بعد ساتھ لے گئے تھے۔اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان فوجیوں کی محفوظ بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔

قبل ازیں برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے شام میں القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ اور دوسرے جنگجوؤں کے اسرائیل کے زیرقبضہ گولان کی چوٹیوں اور شام کے درمیان حد فاصل لکیر پر واقع سرحدی چوکی القنيطرة پر قبضے کی اطلاع دی تھی۔انھوں نے شام کی جانب واقع اس سرحدی چوکی پر صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد قبضہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کا مبصر مشن دونوں دشمن ممالک شام اور اسرائیل کے درمیان سرحدی علاقے میں ٹریفک کی آمد ورفت کی نگرانی کرتا ہے لیکن دونوں ممالک کی سرحدی چوکیوں کے درمیان قریباً دو سو میٹر کا فاصلہ ہے۔

شامی فوج اور جنگجوؤں کے درمیان تازہ لڑائی کے دوران گولان کی چوٹیوں پر تعینات ایک اسرائیلی فوجی اور ایک عام شہری گولیاں لگنے سے زخمی ہو گیا ہے ۔اسرائیلی فوج نے اس کے جواب میں شامی فوج کے دو ٹھکانوں پر گولہ باری کی تھی۔

قبل ازیں بھی شامی علاقے میں لڑائی کے دوران فائر کیے جانے والے توپ خانے کے گولے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے میں گرتے رہے ہیں اور صہیونی فوجیوں اور عام شہریوں کو نامعلوم سمت سے آنے والی گولیاں لگتی رہی ہیں۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ بعض اوقات اس کے فوجیوں پر جان بوجھ کر بھی فائرنگ کی جاتی ہے۔

یادرہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں شامی علاقے گولان کی چوٹیوں کے مغربی حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور بعد میں اس علاقے کو ریاست میں ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری اس کے اس اقدام کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔شامی فوج حد متارکہ جنگ کے دوسری جانب تعینات ہے لیکن بعض سرحدی علاقوں پر باغی جنگجوؤں نے بھی قبضہ کررکھا ہے۔

شامی باغیوں نے گذشتہ سال بھی القنيطرة کی سرحدی گذرگاہ پر مختصر وقت کے لیے قبضہ کر لیا تھا لیکن بعد میں شامی فوج نے انھیں وہاں سے پسپا کردیا تھا۔تاہم اس وقت انھوں نے اس علاقے کے بہت سے دیہات پر قبضہ کررکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں