.

مصر کا داعش مخالف جنگ میں اہم کردارہے:کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے مصر سے کہا ہے کہ اس کو عراق اور شام میں برسرپیکار جنگجو گروپ دولت اسلامی (داعش) کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔

جان کیری نے اپنے مصری ہم منصب سامح شکری اور صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ ہفتے کے روز قاہرہ میں ملاقات کی ہے اور ان سے داعش مخالف جنگ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔انھوں نے بعد میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ''مصر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے۔خاص طور پر وہ جزیرہ نما سیناء میں انتہا پسند گروپوں کے خلاف لڑرہا ہے''۔

اس موقع پر مصری وزیرخارجہ نے کہا کہ ''مصر کے اندر اور اس سے باہر دہشت گردی میں کوئی فرق نہیں ہے اور ان کی حکومت دونوں جگہوں پر دہشت گردوں کو نشانہ بنائے گی''۔

انھوں نے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی جنگجو گروپ ایک ہی نظریے کے حامل ہیں اور ہمیں ان سے نمٹنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ داعش اور علاقے میں موجود دوسرے جنگجو گروپوں کے درمیان روابط موجود ہیں۔اس خطرے سے نمٹنے کے لیے عالمی اقدام کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ مصر کی مسلح افواج کے سابق سربراہ (اب منتخب صدر)عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی گذشتہ سال برطرفی کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں سردمہری پائی جارہی ہے اور مظاہرین کے خلاف مصری سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے بعد امریکا نے مصر کی فوجی امداد بھی معطل کردی تھی۔

جان کیری نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ انھوں نے مصری قیادت کے ساتھ انسانی حقوق کے معاملے پر بھی خوشگوار ماحول میں بات چیت کی ہے اور اس حوالے سے انھیں اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے صدر السیسی ،وزیرخارجہ شکری اور دوسرے عہدے دار اس تشویش سے بخوبی آگاہ ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ عراق اور شام میں داعش کے خلاف بھرپور مہم سے قبل علاقائی ملکوں کے دورے پر ہیں اور ان کی حمایت کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔تجزیہ کاروں کے نزدیک اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ مصر داعش کے خلاف جنگ میں اپنے فوج کو بھیجے گا یا کوئی حصہ ڈالے گا۔تاہم امریکا اس مہم کے آغاز سے قبل مصر کی قدیم دانش گاہ اور دوسرے اداروں سے کوئی دینی فتویٰ کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔

جان کیری کے ساتھ سفر کرنے والےایک امریکی عہدے دار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر کے مذہبی اداروں کو داعش کے خلاف بولنا چاہیے اور علماء کو اپنے جمعہ کے خطبات میں اس کی مخالفت کرنی چاہیے۔اس عہدے دار کا کہنا ہے کہ ''مصریوں کو غیر ملکی جنگجوؤں کے بارے میں تشویش لاحق ہے اور ان کی وجہ سے ان کے ملک میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے''۔