تہران، ماسکو، دمشق "داعش" مخالف کارروائی میں مزاحم

امریکا اور اتحادیوں کی اہم نیوز کانفرنس آج ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراق اور شام میں تیزی سے اپنا نیٹ ورک پھیلانے والی دہشت گرد تنٍظیم دولت اسلامی عراق وشام" داعش" کے خلاف ایک طرف امریکا کی قیادت میں نیا اتحاد قائم ہونے جا رہا ہے اور دوسری جانب شام میں بشار الاسد کی حکومت، ایران اور روس داعش کےخلاف اتحاد کی راہ میں روڑے اٹکانے لگے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل کے مطابق داعش کےخلاف کارروائی کے لیے عالمی رہ نماؤں کی بین الاقوامی کانفرنس سے چندے قبل ایران کا موقف سامنے آیا جس میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ تہران حکومت داعش کے خلاف کسی بھی کارروائی کی آڑ میں شام میں مداخلت کی حمایت نہیں کرے گی۔ یوں ایک جانب جدہ سے پیرس تک چالیس کے قریب ممالک داعش کے خطرے سے فوری نمٹنے پر متفق ہیں اور یہ تین ممالک تنظیم کو بچانے میں سرگرم ہو چکے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری گذشتہ روز پیرس پہنچے جہاں انہوں ‌نے فرانسیسی صدر فرانسو اولاند سے ملاقات کی۔ فرانس ہی میں آج داعش کے خطرے سے نمٹنے پر غور وخوض کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس بلائی گئی ہے جس میں 20 ممالک کے مندوبین شرکت کریں‌ گے۔ پیرس کے ایک سفارتی ذریعے کے مطابق کانفرنس میں شریک ہرملک ذہنی طورپر داعش کے خلاف نہ صرف کارروائی کی حمایت کے ساتھ شامل ہوگا بلکہ داعش مخالف جنگ میں ہر ممکن تعاون کا بھی اعلان کرے گا۔

داعش کے خلاف بین الاقوامی نوعیت کی کارروائی میں امریکا ان دنوں اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کے لیے کوشاں ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے پیرس روانگی سے قبل قاہرہ میں مصری صدر فیلڈ مارشل ریٹائرڈ عبدالفتاح السیسی اور اپنے مصری ہم منصب سامح شکری سے بھی ملاقات کی۔ دونوں‌ رہ نماؤں نے کیری کو داعش کےخلاف جنگ میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔

اس ضمن میں آسٹریلوی حکومت کی جانب سے فوج کی فراہمی کا اعلان بھی اہم پیش رفت ہے۔ گذشتہ روز آسٹریلوی وزیر اعظم ٹونی ایبٹ نے کہا کہ ان کا ملک امریکا کی درخواست پر داعش کے خلاف جنگ میں اپنے 600 سپاہی اور جنگی طیارے مہیا کرے گا۔

داعش کےخلاف جنگ کی عالمی مساعی کے برعکس ایران، روس اورشام اپنے طور پر داعش کو بچانے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں۔ ایک روز قبل ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی شمخانی نے اپنے ایک بیان میں‌ کہا کہ امریکا دہشت گردی کی آڑ میں شام کی خود مختاری پر حملے کی سازش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اس سے پہلے کئی دوسرے ممالک کی سلامتی اور خود مختاری سے بھی کھیل چکا ہے اور اب شام میں کھلم کھلا مداخلت کا ارادہ رکھتا ہے۔

روس کا موقف بھی ایران سے مختلف نہیں ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک تازہ بیان میں کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر شام اور عراق میں حملے کرنا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہو گی اور روس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گا۔

شامی حکومت کی جانب سے بھی داعش کے خلاف امریکی اعلان جنگ کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ شامی صدر بشارالاسد کی میڈیا ایڈوائزر بثنیہ شعبان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور وہ دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے کسی بھی عالمی اتحاد سے تعاون کر سکتے ہیں مگر امریکا کی قیادت میں داعش نامی گروپ کے خلاف کارروائی شکوک وشبہات سے بھری پڑی ہے۔

شامی حکومت کی جانب سے یہ اشارہ بھی دیا جا چکا ہے کہ اگرامریکا نے دمشق کی منظوری کے بغیر اس کی سرزمین میں داعش کے ٹھکانوں پر حملے کیے تو غیرملکی جنگی طیاروں کو مار گرایا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں