کرد فورس کے لیے جرمن اسلحہ روانہ، تربیت کار تیار
اسلحے میں ٹینک شکن میزائل اور مشین گنیں شامل ہیں
جرمنی نے داعش کے خلاف کردوں کی فوجی مدد کے لیے 40 فوجی تربیت کاروں کو عراق روانہ کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔
اس امر کا باضابطہ اعلان وزارت دفاع کی طرف سے کیا گیا ہے ۔ اس سے پہلے جرمن حکومت نے پچھلے ماہ عراق کی کرد فورس کو اسلحے سمیت فوجی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔دوسری جانب جرمن وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ اس نے اربیل میں قائم اپنے قونصل خانے کی حفاظت کے لیے بھی چھ فوجی روانہ کر دیے ہیں۔ واضح رہے اربیل شمالی عراق میں واقع ہے۔
اب اضافی طور بھجوائی جانے والی جرمنی کی فوجی ٹیم فی الحال پر عراقی کردستان میں تعینات کی جائے گی۔ اس کے بدلے میں 30 کرد فوجی جرمنی جائیں گے۔ غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ ان 30 کرد فوجیوں کو جرمنی ہی تربیت دی جائے گی۔
جرمنی سے بھجوائے جانے والی اسلحے کی پہلی کھیپ میں ٹینک شکن راکٹس اور مشین گنیں بھی شامل ہیں۔ امکانی طور پر اسلحے کی یہ کھیپ 24 ستمبر تک عراقی کردستان پہنچ جائے گی۔
وزارت دفاع کے ترجمان کے مطابق اس اسلحے کی کھیپ کے فوری بعد جرمن فوجی تربیت کارو ں کا دستہ بھی عراق پہنچ جائے گا۔
جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے اس سے قبل اسی ماہ کہا تھا "تقریبا چار سو جرمن شہری عراق اور شام میں اسلامی انتہا پسندوں میں شامل ہو چکے ہیں۔" چانسلر کا کہنا تھا "ہمیں خوف ہے کہ یہ انتہا پسند واپس آکر ملکی استحکام کے لیے خطرہ بنیں گے اور بڑے مغربی شہروں پر حملے کریں گے۔"
-
داعش کےخلاف جنگ، امریکا آگ سے کھیل رہا ہے: ایران
ایران نے شامی حکومت کی اجازت کے بغیر ملک میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامی ...
بين الاقوامى -
"داعش، شام سے عراق پر حملے کر رہی ہے"
عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامی عراق وشام ...
مشرق وسطی -
داعش کے زیر قبضہ علاقوں پر فضائی حملے روکنے کا حکم
عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے اپنی فضائیہ کو سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے زیر ...
مشرق وسطی