.

اعلی مصری عدالت نے 112 افراد کی سزا ختم کر دی

ماتحت عدالت نے انہیں احتجاجی مظاہرہ کرنے پر سزا سنائی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک اپیل کورٹ نے 112 افراد کی سزا کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ ان افراد کو 2011 کی تحریک مزاحمت کی تیسری سالگرہ کے حوالے سے ایک غیر قانونی مظاہرہ کرنے پر سزا سنائی گئی تھی۔

واضح رہے اسی تحریک مزاحمت کے دواران حسنی مبارک کی تیس سالہ مطلق العنان حکمرانی کا خاتمہ ہوا تھا اور بعدازاں مصر میں پہلی بار صدارتی انتخاب کی راہ ہموار ہوئی تھی۔

ان ایک سو بارہ افراد سمیت مصر کے پہلے منتخب صدت محمد مرسی کے 1079 کو ملک بھر سے 25 جنوری کو سکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا تھا۔

محمد مرسی جنہیں موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی نے فوجی سربراہ کے طور پر پچھلے سال 3 جولائی کو برطرف کیا تھا تب سے جیل میں بند ہیں اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

زیر حراست لیے گئے افراد میں سے 112 کو ماتحت عدالت نے مظاہرہ کرنے، فساد پھیلانے، سڑکیں بلاک کرنے، پولیس پر حملہ آور ہونے اور لوگوں کو تشدد کے لیے ابھارنے کے الزامات کے تحت ایک سال قید کی سزا سناتے ہوئے جیل بھیج دیا تھا۔

ان سے پہلے بھی معزول صدر مرسی کے ہزاروں حامی 3 جولائی 2013 سے جیلوں میں بند ہیں۔ حکومت کی طرف سے بنائے گئے نئے متنازعہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر بعض دوسری جماعتوں کے درجنوں کارکن بھی جیلوں میں قید ہیں۔

پہلے منتخب صدر مرسی کی حکومت کے بعد عبوری حکومت نے ماہ نومبر میں احتجاج اور مظاہروں پر کئی پابندیاں عاید کر دی تھیں۔ تاہم ان پابندیوں کو تقریبا سبھی جماعتیں مسترد کر چکی ہیں۔

واضح رہے مطلق العنان حسنی مبارک کے خلاف ایک مصری عدالت نے ہفتے کے روز اپنے فیصلے کو موخر کر دیا تھا۔ حسنی مبارک پر مظاہرین کے قتل اور کرپشن کے الزامات کے تحت مقدمات زیر سماعت ہیں، جبکہ ایک اور مقدمے میں ہفتے ہی کے روز ایک مصری عدالت نے 12 طلبہ کو چار سال قید کی سزا دیتے ہوئے جیل بھیجا ہے۔ ان طلبہ پر الزام ہے کہ انہوں نے حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔ 12 طلبہ کو ایک ایک لاکھ مصری پاونڈ کا جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔