.

ایران کے بغیر امریکا داعش مخالف جنگ نہیں جیت سکتا: رفسنجانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدراور گارڈین کونسل کے چیئرمین علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے تعاون کے بغیرامریکا اور اس کے اتحادی دولت اسلامی "داعش" کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی"ارنا" کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر ہاشمی رفسنجانی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ بات امریکی بھی بہ خوبی جانتے ہیں کہ ایران کی معاونت کے بغیر داعش کو شکست دینا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ محض فضائی حملوں کے نتیجے میں داعش کی بیخ کنی نہیں کی جا سکتی۔ اس کی تازہ مثالیں ہمارے پاس موجود ہیں۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے مسلسل فضائی حملوں کے دوران داعش نے شام میں کرد اکثریتی علاقے کوبانی پر قبضہ کیا۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری امریکی جنگ غیر موثر ثابت ہو رہی ہے۔

عراق میں سیاسی استحکام کے حوالے سے ایرانی کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ "عراق میں سیاسی قوتیں کئی مہینوں سے نئی حکومت کی تشکیل کی کوشش کر رہی تھیں لیکن امریکا اس میں رکاوٹ بنا رہا۔ امریکا کی جانب سے نئی حکومت کے لیے مرضی کی شرائط رکھی گئی اور عراق کی امداد انہی شرائط سے مشروط کر دی گئی تھی۔ ایران عراق میں سیاسی بحران کے حل میں مدد نہ کرتا تو یہ بحران ختم نہ ہوتا۔

اپنی اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مسٹر رفسنجانی کا کہنا تھا کہ اگر عراق میں داعش کے خلاف زمینی کارروائی ہوتی ہے تو آپ ایرانیوں کو اس جنگ میں بھی فرنٹ لائن پر پائیں‌ گے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہمارے فوجی دستے عراق میں موجود ہیں البتہ ہم نے عراقی حکومت کو موصل ڈیم اور آمرلی قصبے کو داعش سے چھڑانے کے لیے بغداد کو مشورے میں معاونت کی تھی۔

سابق ایرانی صدر نے کہا کہ داعش کے خلاف امریکا کے ایک ہفتے پر محیط فضائی حملوں کے دوران 235 جنگجو داعش میں شامل ہوئے۔ اس لیے امریکا کو بھی معلوم ہے کہ اس کے فضائی حملے زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہو سکتے۔