.

سویڈن کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے فیصلے پر اسرائیل سیخ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سویڈن کی جانب سے آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کے اعلان پر اسرائیل نے سخت غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے سویڈش حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

خبر رساں ایجنسی" اے ایف پی" کے مطابق اسرائیلی وزیرخارجہ آوی گیڈور لائبرمین نے نو منتخب سویڈش وزیراعظم اسٹیفن لوفین کے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہےجس میں انہوں نے ایک مکمل آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ سویڈن کے وزیر اعظم نے تنازع کی گہرائی کا مطالعہ کرنے سے قبل بیان دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ فلسطین۔ اسرائیل مسئلے کے بارے میں جان کاری نہیں رکھتے ہیں۔

ایک بیان میں مسٹر لائبرمین کا کہنا تھا کہ "سویڈن کے وزیراعظم کو اس امر کا بہ خوبی ادراک ہونا چاہیے کہ فلسطین۔ اسرائیل تنازعہ کا حل صرف فریقین کے درمیان براہ راست مذکرات ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ کوئی تیسرا فریق باہر بیٹھ کر اپنی مرضی کا فیصلہ مسلط نہیں کر سکتا ہے"۔ انہوں‌نے کہا کہ وہ تل ابیب میں متعین سویڈش سفیر کارل ماگنوس نیسیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے فلسطینی ریاست کی حمایت کے اعلان پر سخت احتجاج کریں گے۔

ٌخیال رہے سویڈن پہلا یورپی ملک ہے جس نے کھل کر فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ گذشتہ جمعہ کو سویڈن کے وزیراعظم نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں‌نے کہا کہ مشرق وسطیٰ‌ میں امن بقائے باہمی کے اصول کو آگے بڑھانے کے لیے اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام بھی ناگزیر ہے۔ سویڈن آج ہی سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی حمایت کا اعلان کرتا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے سویڈن کے اعلان کی مخالفت کے برعکس فلسطینی اتھارٹی نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات نے کہا ہے کہ "سویڈن نے جرات مندانہ موقف اختیار کر کے عالمی برادری کے لیے ایک روشن مثال قائم کی ہے۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ عالمی برادری فلسطینیوں کے دیرینہ حقوق اور مطالبات کو تسلیم کرنے لگی ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت میں منظور کی گئی عالمی قراردادوں پر عمل درآمد کرائے"۔

یادرہے کہ اسٹاک ہوم نے سنہ 2012ء میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت "یونیسکو" میں فلسطین کو بہ طور مبصر رکن شامل کرنے کی حمایت کر چکا ہے۔