.

شام کی سرحد پر تُرک فوج ہائی الرٹ، پناہ گزین کیمپ خالی کرا لیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی مسلح افواج کے آرٹلری آرمیڈ بریگیڈ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ شام سے متصل جنوبی ریاست "شانلی اورفہ" پر فوج کو کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ فوج کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی"اناطولیہ" کو بتایا کہ شام سے متصل سرحد کے بعض مقامات کو سیل کیا گیا ہے اور فوج کو کسی بھی کارروائی کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاست "شانلی اورفہ" میں فوج کی تعیناتی سے قبل شام کی جانب سے ہاون راکٹ حملے کیے گئے تھے جس کے بعد وہاں پر موجود اہم تنصیبات اور شامی پناہ گزینوں کے لیے قائم کردہ کیمپ کو خالی کرا لیا گیا تھا۔

ادھر ترکی کی سرحد سے متصل شام کے کرد اکثریتی علاقے کوبانی میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامی "داعش" اور کرد فورسز کے درمیان گمھسان کی جنگ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق داعشی جنگجو معروف ترک فرمانروا سلیمان شاہ کے مزار کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کوبانی کا بھی کئی اطراف سے محاصرہ کر رکھا ہے۔ موجودہ کشیدہ صورت حال کے پیش نظر ترک فوج کو کسی بھی کارروائی کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ترک پارلیمنٹ نے حکومت کو شام میں اہم مقامات بالخصوص سلیمان شاہ کے مزار کے دفاع کے لیے فوجی کارروائی کا مینڈیٹ دے دیا تھا جس کے بعد بڑی تعداد میں فوج کو شام کی سرحد کی طرف بھیجا گیا ہے۔

دوسری جانب شامی حکومت نے فوج داخل کرنے کے انقرہ کی دھمکیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ دمشق میں صدر بشارالاسد کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کے اندر فوج داخل کرنا ہمارے خلاف ترکی کا اعلان جنگ سمجھا جائے گا۔