.

یمن: خودکش دھماکے، 67 افراد ہلاک

نامزد وزیراعظم نے عہدہ سنبھالنے سے معذرت کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعا اور جنوبی شہر المکلا میں دو خودکش بم حملوں کے نتیجے میں 67 افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

صنعا کے وسط میں جمعرات کی صبح خود کش حملہ آور نے شیعہ حوثیوں کے ایک چیک پوائنٹ کو نشانہ بنایا ہے۔ یمنی حکام کے مطابق اس خودکش بم دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد سینتالیس ہوگئی ہے اور متعدد افراد زخمی ہیں۔انھیں اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

جائے وقوعہ کے نزدیک واقع ایک بنک کی حفاظت پر مامور اہلکار نے بتایا "خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری بیلٹ باندھ رکھی تھی اور اس نے حوثیوں کی چیک پوسٹ کو ہدف بنایا جس کے نتیجے میں حوثی محافظین اور عام لوگ لقمہ اجل بن گئے۔"

ادھر جنوب مشرقی صوبے حضرموت کے شہر المکلا میں ایک خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری کار ایک سکیورٹی چیک پوائنٹ پر دھماکے سے اڑادی ہے جس کے نتیجے میں بیس فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

فوری طور پر کسی گروپ نے ان دونوں بم حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی لیکن ماضی میں یمن میں سکیورٹی فورسز سے برسرپیکار جنگجو گروپ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ پر اس طرح کے بم حملوں کے الزام عاید کیے جاتے رہے ہیں۔

دریں اثناء یمن کے نامزد وزیراعظم احمد عواد بن مبارک نے اپنی سخت مخالفت کے بعد عہدہ سنبھالنے اور نئی حکومت کی تشکیل سے معذرت کر لی ہے۔ واضح رہے شیعہ حوثی 21 ستمبر سے دارالحکومت صنعا میں اہم جگہوں پر اپنا کنٹرول قائم کررکھا ہے۔

حوثی لیڈروں نے نامزد وزیراعظم کے خلاف احتجاج کا اعلان کردیا تھا۔ اس وجہ سے صدرعبد ربہ منصور ہادی نے نامزد کردہ وزیر اعظم کی معذرت قبول کر لی ہے۔ نامزد وزیراعظم نے صدر کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے "میں ملکی اور قومی اتحاد کو اہمیت دیتا ہوں۔"

اس خبر کے ساتھ ہی حوثیوں نے جمعرات کے روز طے کیے گئے احتجاج کی کال واپس لے لی ہے۔ صدر کے ایک حامی نے حوثیوں کی طرف سے معاہدے کے بعد پیچھے ہٹنے پر افسوس ظاہر کیا ہے۔