سوڈانی صدر عمر البشیر سرکاری دورے پر مصر پہنچ گئے
دوطرفہ ترقی کے منصوبے اور خطے کے امور زیر بحث آئیں گے
سوڈان کے صدر عمر البشیر مصر کے دو روزہ سرکاری دورے پر قاہرہ پہنچ گئے ہیں۔ وہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے سوڈان میں معاشی ترقی کے منصوبوں اور دو طرفہ تعاون پر بات کریں گے۔
اس سے پہلے صدر السیسی نے ماہ جون میں سوڈان کا دورہ کر کے اپنے ہم منصب سوڈانی صدر کے ساتھ ان موضوعات پر بات چیت کا آغاز کیا تھا اور انہوں نے صدر عمر البشیر کو اس دورہء مصر کی دعوت دی تھی۔
سوڈانی صدر کے پریس سیکرٹری عماد احمد نے بتایا یہ دورے کے دوران دو طرفہ تعاون، سوڈان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور ترقی کے دوطرفہ منصوبوں پر بات آگے بڑھانے کے علاوہ خطے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کے حوالے سے اہم ہو گا۔
پریس سکرٹری کے مطابق ''دونوں رہنماوں کے درمیان ہونے والی ملاقات جون میں سوڈانی دارالحکومت میں ہونے والی ملاقات اور تبادلہ خیال ہی کا تسلسل ہے۔ اس دورے کی دونوں ملکوں کو درپیش مسائل کی وجہ سے اہمیت دو چند ہے۔''
اعلی ترین سطح کی دو طرفہ ملاقات کے بعد مصر، سوڈان اور ایتھوپیا کے درمیان آبپاشی اور پانی کی وزارتوں کے ذمہ دار وزراء کے درمیان بات چیت کے بعد ہو رہی ہے۔ یہ بھی امکان ہے کہ متنازعہ ڈیم بھی زیر بحث آئے گا۔
واضح رہے دریائے نیل پر ڈیم کا منصوبہ افریقی یونین کے رکن ان تینوں ملکوں کے درمیان ایک عرصے سے تنازعے کا باعث چلا آ رہا ہے۔
ڈیم کی تعمیر کے لیے پیش کردہ منصوبے سے مصر میں دریائے نیل سے پانی کی فراہمی کی سکیمیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ سوڈان اور مصر نے افریقی یونین کے ملکوں کے درمیان تجارت بڑھانے کے لیے ماہ اگست سے اشکیت کوسٹل لینڈ پورٹ کا بھی آغاز کیا ہے۔
اہم بات ہے کہ سوڈانی صدر کے خلاف انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے اسی 15 اکتوبر کو گرفتار کرنے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ یہ عدالت اس سے پہلے 2009 اور 2010 میں عمر البشیر کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کر چکی ہے۔
صدر عمر البشیر پر الزام ہے کہ دارفور میں نسل کشی میں ملوث رہے ہیں۔ مصر چونکہ انٹر نیشنل کریمنل کورٹ سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کا باقاعدہ رکن نہیں ہے اس لیے وہ اس عدالتی کارروائی میں تعاون کرنے کا پابند نہیں ہے۔