فوج دارالحکومت طرابلس خالی کرائے: وزیر اعظم لیبیا

عوام سے بھی اسلام پسندوں کے خلاف بغاوت کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لیبیا کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی جانے والی حکومت نے فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ سابق جرنیل خلیفہ حفتر کے ذریعے دارالحکومت طرابلس سے اسلام پسندوں کو بے دخل کرے۔

وزیر اعظم عبداللہ الثانی کی کابینہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ '' فوج کو دارالحکومت آزاد کرانے کے لیے ہرا سگنل دے دیا گیا ہے۔'' کابینہ نے عام لوگوں پر بھی زور دیا ہے کہ سرکاری فوج کے آنے تک اسلام پسندوں کے قبضے کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دیں۔

اس سے پہلے وزیر اعظم نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مسلح افواج دارالحکومت اور دوسرے علاقوں کو آزاد کرانے کے لیے متحد ہیں۔''

واضح رہے اسلام پسندوں نے طرابلس اور دوسرے بڑے شہر بنغازی پر قبضہ کر کے وہاں اپنی حکومت قائم کر رکھی ہے۔ اسلام پسندوں کی حکومت کے وزیر اعظم عمر الحسی نے منگل کے روز ترک نمائندے سے ملاقات کی ہے، یہ اسلامی وزیر اعظم کی کسی سفاترکار سے پہلی باضابطہ ملاقات تھی جو سامنے آئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے حال ہی میں طرابلس اور تبروک کا دورہ کیا ہے لیکن ان سے عمر الحسی کی ملاقات کی کوئی خبر سامنے ںہیں آئی ہے۔

لیبیا میں معمر قذافی کی 2011 میں حکومت ختم ہونے سے اب تک مسلسل بدامنی اور افراتفری کا عالم ہے۔ عبداللہ الثانی کی موجودہ حکومت کو ماہ جون میں منتخب کیا گیا تھا۔ لیکن وہ دارالحکومت سے محروم ہیں۔ جہاں اسلام پسندوں کی عمل داری ہے۔
لیبیا میں اس وقت دو حکومتیں اور دو الگ الگ پارلیمان کام کر رہی ہیں۔ تاہم اسلام پسندوں کی حکومت کا امریکا اور مغربی دنیا تسلیم نہیں کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں