.

مصری فوج کو اہم ریاستی تنصیبات کے تحفظ کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے فوج کو اہم ریاستی تنصیبات کے تحفظ کا حکم دیا ہے۔انھوں نے جزیرہ نما سیناء میں فوجیوں پر تباہ کن حملوں کے بعد سوموار کو ایک صدارتی فرمان جاری کیا ہے جس کے تحت ریاستی اداروں پر حملوں میں ملوث مشتبہ شہریوں کا فوجی ٹرائل کیا جا سکے گا۔

اس صدارتی فرمان کے تحت فوج پولیس کے ساتھ سرکاری تنصیبات ، بجلی کی تنصیبات، اہم شاہراہوں اور پُلوں پر دو سال تک تعینات رہے گی۔اس دوران ان کو فوجی تنصیبات سمجھا جائے گا۔اس فرمان کے تحت سرکاری تنصیبات اور املاک کے خلاف جرائم فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں آئیں گے۔

صدرعبدالفتاح السیسی نے جمعہ کو سیناء میں ایک چیک پوائنٹ پر کاربم دھماکے میں تیس فوجیوں کی ہلاکت کے بعد کہا تھا کہ مصر کو جنگجوؤں سے درپیش خطرے سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ مصر کی فوجی عدالتوں کو پہلے ہی آرمی پر حملوں میں ملوث شہریوں کے خلاف مقدمات چلانے کا اختیار حاصل ہے۔اب ریاستی اداروں کو فوجی تنصیبات قرار دیے جانے کے بعد فوج کے اختیارات میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے۔

مصری صدر کے ترجمان علا یوسف نے وضاحت کی ہے کہ اس فرمان کو احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کے لیے جاری نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس کا مقصد دہشت گردی سے نمٹنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سرکاری تنصیبات پر حملوں اور مظاہروں میں بہت زیادہ فرق ہے۔یہ دو مختلف چیزیں ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اس قانون کا مقصد سرکاری تنصیبات کا تحفظ اور انھیں دہشت گردوں کے حملوں سے محفوظ بنانا ہے۔

مصر کے انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ فوجی ٹرائل سے فوری اور سخت فیصلے آسکتے ہیں۔یادرہے کہ مصر کے سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاج کرنے والے انقلابیوں کا ایک بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ عام شہریوں کے خلاف فوجی ٹرائبیونلز میں مقدمات نہ چلائے جائیں۔حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد فوجی عدالتوں میں ہزاروں افراد کے خلاف مقدمات چلائے گئے تھے لیکن جون 2012ء میں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے برسراقتدار آنے کے بعد یہ سلسلہ ختم کردیا گیا تھا۔

ڈاکٹر محمد مرسی کی گذشتہ سال جولائی میں (تب) مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں برطرفی کے بعد سے مختلف جنگجو گروپ جزیرہ نما سیناء میں مصری سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں اور ان حملوں میں سیکڑوں سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسرائیل اور غزہ کی پٹی کی سرحد کے نزدیک واقع سیناء میں برسرپیکار مسلح گروپوں میں انصار بیت المقدس سب سے نمایاں ہے۔اسی گروپ کی تشدد آمیز کارروائیوں کی پاداش میں مصری حکومت نے اخوان المسلمون کو دہشت گرد قرار دے دیا تھا حالانکہ اس جماعت کا موقف ہے کہ وہ پُرامن ہے اور اس کا دہشت گردی اور اس تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔