شامی فوج کی اسکول پر بمباری سے37 بچے جاں بحق
شام میں صدر بشار الاسد کی وفادار فوج نے دمشق کے نواحی علاقے القلمون میں ایک اسکول پر ھاون راکٹوں سے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم 37 کم سن بچے جاں بحق اور بڑی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی فوج کی جانب سے اسکول پر اس وقت راکٹ داغے گئے جب وہاں تعلیمی سرگرمیاں جاری تھیں۔
لندن میں قائم شامی آبرزویٹری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بدھ کے روز شامی فوج کی گولہ باری سے القلمون قصبے میں کم سے کم 37 بچے مارے گئے۔ انسانی حقوق گروپ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ ان کے پاس شامی فوج کی گولہ باری سے اسکول کے 37 بچوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ یہ اسکول دمشق کے شمال مشرق میں واقع باغیوں کے زیر کنٹرول القلمون میں تھا۔
درایں اثنا شام میں جنرل انقلاب کونسل نے میڈیا کو جاری ایک ای میل میں بتایا ہے کہ دمشق کے مضافات میں ایک دوسری القابون کالونی میں سرکاری فوج نے نہتے شہریوں کا بدترین قتل عام کیا ہے۔ ای میل کے مطابق یہ کالونی شامی فوج اور باغیوں کے درمیان تقسیم ہے اور دونوں کے درمیان پوری کالونی پر قبضے کے لیے لڑائی جاری ہے۔
-
ہر گھنٹے کے بعد ایک شامی مہاجر بچے کی پیدائش
اقوام متحدہ کی شامی بچوں کو امراض سے بچانے کے لیے مددکی اپیل
مشرق وسطی -
باغیوں کے زیر انتظام علاقوں میں سردی سے نو شامی بچے جاں بحق
ایمنسٹی کا موسم سرما میں پناہ گزینوں کی مشکلات میں اضافے پر انتباہ
مشرق وسطی -
شامی فوج کی گولہ باری میں زخمی دو بچے اسرائیلی اسپتال منتقل
ایک زخمی بچے کی حالت تشویشناک
مشرق وسطی -
فوت سمجھے جانے والے دو سالہ شامی بچے کا والدین سے ملاپ
شام میں جاری خانہ جنگی میں جنم لینے والی معجزانہ کہانی
صفحة اول -
لاکھوں شامی بچے پولیو کی زد میں ہیں: یونیسف ترجمان
تین سال کے دوران تیس لاکھ بچوں کو قطرے پلائے گئے
مشرق وسطی -
شامی کرد خاندان نے نوزائیدہ بچے کا نام اوباما رکھ دیا
شامی سرحدی قصبے کوبانی سے فرار ہونے والے ہزاروں شامی کرد باشندوں میں شامل ایک ...
ایڈیٹر کی پسند