داعش مخالف جنگ میں کردستان کی تعاون کی پیشکش مسترد

البیشمرکہ کو کردستان کی آزاد فوج بنانا چاہتے ہیں: جبار یاور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عراق کے نیم خود مختار صوبہ کردستان کی مسلح افواج'البیش مرکہ' کے سیکرٹری جنرل جبار یاور نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے دولت اسلامی"داعش" کے خلاف جنگ میں بغداد حکومت کو ہرممکن تعاون کی پیشکش کی تھی تاہم عراقی فوج نے ہماری پیشکش ٹھکراتے ہوئے البیشمرکہ کو موصل میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

العربیہ ٹی وی کے فلیگ شپ پروگرام "پوائنٹ آف آرڈر" کے لیے دیے گئے خصوصی انٹرویو میں البیشمرکہ کے سربراہ نے کہا کہ انہوں نے بغداد میں امریکی سفارت خانے کے ایماء پرداعش کے خلاف جنگ کے لیے عراقی فوج سے دو طرفہ تعاون کی درخواست کی تھی۔ ہم نے البیشمرکہ کے موصل میں داخل ہونے کی بھی اجازت مانگی تھی مگرہمارے تعاون کی پیشکش کو بھی ٹھکرا دیا تھا۔ جبار یاور کا کہنا تھا کہ موصل شہرمیں مضبوط دفاعی محاذ نہ ہونے کے باعث یہ شہرایک دن کے اندر اندر داعشی جنگجوؤں کے تسلط میں آ گیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں جبار یاور نے کہا کہ ان کی فوج داعش کے خلاف آپریشن میں عراقی اور عالمی اتحادی فوج کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔ شمالی عراق کے سنجار شہرکو شدت پسندوں کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے وہ پوری قوت کے استعمال کے لیے تیار ہیں۔ اب بھی اگر کوئی مناسب منصوبہ پیش کیا جائے تو البیشمرکہ موصل اور دوسرے شہروں کو چھڑانے میں مدد کرے گی۔

الرمادی شہر میں البیشمرکہ کی مداخلت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ رمادی میں کرد فوج کے داخلے کا امکان بہت کم ہے۔ البیشمرکہ کی اصل توجہ کرد کردستان کے حدود کے اندرامن وامان کے قیام پرمرکوز ہے۔ عراقی حکومت کی جانب سے کرد اکثریتی اضلاع کے دفاع کے لیے نیشنل گارڈز کی تشکیل کی جو تجویز دی گئی ہے وہ کرد فوج کے متبادل نہیں ہو سکتی۔

کُرد عہدیدار کا کہنا تھا کہ ان کی فوج عراق کے متنازعہ علاقوں میں اپنے اثرونفوذ کے قیام کے ساتھ ان علاقوں کو داعش کے چنگل سے چھڑانے کے لیے مداخلت کر سکتی ہے۔

انہوں نے"متنازعہ" علاقوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں کردآبادی کی اکثریت ہے اور عراق میں انتخابی عمل کے دوران بھی ان علاقوں کو کرد اکثریتی علاقے قرار دیا جا چکا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی یہ تجویز دے رکھی ہے کہ انتخابی عمل میں‌ ان علاقوں کی کُرد حیثیت کو برقرار رکھا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں جبار یاور نے کہا کہ ہم کردستان کو عراق کے ہرقسم کے اثرو نفوذ سے آزاد کرانا اور البیشمرکہ کو ایک مکمل اور آزاد و خود مختار فوج کی حیثیت دینا چاہتے جو جوصرف 'مملکت کردستا' کے دفاع کی ذمہ دار ہو۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں‌ نے واضح کیا کہ عراقی حکومت کی جانب سے سنہ 2004ء کے بعد سے کردستان فوج کو تنخواہیں جاری کی گئی ہیں اور نہ ہی عراقی فورسز نے کسی قسم کی عسکری تربیت فراہم کی ہے۔ اس سلسلے میں میڈیا میں یہ خبریں آتی رہی ہیں کہ ترک فوج کی ہدایت پر بغداد نے البیشمرکہ کو تنخواہیں اور عسکری تربیت مہیا کی۔ یہ تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اگر عالمی برادری کی مدد نہ ہوتی تو تنہا البیشمرکہ داعش کےخلاف جنگ میں کامیاب نہیں‌ ہو سکتی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں