.

دیر الزور پر داعش کا حملہ شامی فوج نے ناکام بنا دیا

جنگجو ہوائی اڈے کے قرب وجوار سے بھی پسپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے عسکری ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ بشار الاسد کی وفادار فوج نے دولت اسلامی ’داعش‘ کے جنگجوئوں کی جانب سے ملک کے مشرقی شہر دیر الزور کی چھاونی میں واقع فوجی ہوائی اڈے پر قبضے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے جنگجوئوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ دیر الزور میں شامی فوج کے زیر کنڑول یہ اڈا اسد حکومت کا آخری اہم ترین ٹھکانہ ہے۔ شامی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے دیر الزور گورنری کے فوجی ہوائی اڈے پر حملہ کیا تھا مگر اسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔

ادھر شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والی آبزرویٹری کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ شامی فوج کی اندھا دھند بمباری کے بعد داعش کے جنگجو دیر الزور کے فوجی اڈےکے قرب وجوار کے ٹیلوں اور پہاڑی علاقوں سے بھی پسپا ہو گئے ہیں۔

شام کے سرکاری میڈیا نے ہفتے کے روز بتایا تھا کہ فوج اور دہشت گردوں کے درمیان دیر الزور کے فوجی اڈے کے قریب الجفرہ کے مقام پر گھمسان کی لڑائی ہوئی جس میں دہشت گردوں کی بڑی تعداد ہلاک کر دی گئی ہے۔

انسانی حقوق آبزوریٹری کے انچارج رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ داعش کے جنگجوئوں نے ہفتے کو علی الصباح دیر الزور کے سرکاری فوجی اڈے پر دھاوا بولا تھا۔ انہوں نے اڈے کی جانب کچھ پیش قدمی بھی کی لیکن سرکاری فوجیوں اور جنگجوئوں کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئیں۔

اس سےقبل بدھ کو داعش کے جنگجوئوں نے دیر الزور کے فوجی اڈے پر ایک بڑا حملہ کیا تھا۔ انسانی حقوق آبزرویٹری کے مطابق لڑائی میں مجموعی طور پر 111 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ مرنے والوں میں داعش کے 60 جنگجو اور 51 شامی فوج کے اہلکار شامل ہیں۔

خیال رہے کہ دیر الزور میں موجود سرکاری فوج کا یہ ہوائی اڈہ ملک کے مشرقی علاقوں کے لیے خوراک کی سپلائی کا واحد راستہ ہے۔ اس ہوائی اڈے سے شامی فوجی ہیلی کاپٹروں اور دوسرے جنگی طیاروں کی مدد سے اپوزیشن گروپوں کے ٹھکانوں پر بمباری کرتے ہیں۔ اگر یہ ہوائی اڈہ داعش کے قبضے میں چلا گیا تو شام کا مشرقی حصہ بھی ملک سے کٹ جائے گا۔

یاد رہے کہ داعشی جنگجو پچھلے ایک برس سے دیر الزور اور اس میں موجود تمام اہم فوجی مراکز پر قبضے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عراق کی سرحد سے متصل دیر الزور کے نصف علاقے پر داعش اپنا کنٹرول قائم کرنے میں کامیاب بھی ہو چکی ہے۔ دیر الزور کا یہ فوجی اڈہ صرف ملک کے مشرقی علاقوں کے لیے سپلائی لائن ہی نہیں بلکہ اس کا شمار ملک کے تین بڑے فوجی اڈوں میں ہوتا ہے۔