داعش کے جرائم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں: جامعہ الازھر

"برے اعمال کے باعث کسی کو کافر نہیں قرار دیا جا سکتا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصر کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازھر نے شام اور عراق میں اپنی الگ سے ریاست قائم کرنے والی شدت پسند تنظیم دولت اسلامی’’داعش‘‘ کے تکفیری افکار و نظریات کو خلاف اسلام قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ “داعش ایک خونخوار اور انسان دشمن تنظیم ہے، اس کے جرائم کا دین اسلام کی تعلیمات سے دور دور تک بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔”

خیال رہے کہ حال ہی میں جامعہ الازھر کے زیر اہتمام دنیا بھر کے ممتاز علماء کرام کی ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جامعہ الازھر کی جانب سے جاری ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی مسلمان کے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہو جائیں اسے کافر نہیں قرار دیا جا سکتا۔

بیان میں نائجیریا کےمفتی اعظم الشیخ ابراہیم صالح الحسینی کے جامعہ الازھر میں منعقدہ کانفرنس کے دوران دیے گیے لیکچر کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں انہوں نے بھی دہشت گردی کو اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیتے ہوئے یہ واضح کیا تھا کہ ’’داعش‘‘ کے جنگی جرائم کا اسلام اور اہل اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ جس نوعیت کے ہتھکنڈے داعشی استعمال کر رہے ہیں وہ کسی مسلمان کے شایان شان نہیں ہو سکتے۔

نائیجیریا کے مفتی اعظم نے اپنی تقریر میں داعش کی کھلے الفاظ میں تکفیر تو نہیں کی تاہم انہوں نے کہا کہ انتہا پسند تنظیمیں بالخصوص اسلامی خلافت کی دعویدار داعش نے خود کو اسلام کا باغی گروپ ثابت کیا ہے جو صرف لوٹ مار، قتل وغارت گری اور کشت و خون پریقین رکھتی ہے۔ تکفیری نظریات کو عام کرتی اور بے گناہ انسانوں کا خون بہاتی ہے۔ ایک مسلمان کے خلاف اعلان جنگ بدعتی خوارج کے نظریات ہو سکتے ہیں لیکن ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام میں اپنے مسلمان بھائی کےخلاف تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اہل سنت والجماعت مسلک کا یہ متفقہ علیہ عقیدہ ہے کہ اللہ کی وحدانیت اور ختم نبوت پر یقین رکھنے والا کوئی بھی شخص تعریف کی رو سے مسلمان ہے۔ اس کے برے اعمال اور گناہ ہوں کی سزا پر کوئی بھی اسے کافر قرار نہیں دے سکتا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں