شام: امن کے لیے ماسکو میں متوقع مذاکرات، کامیابی مشکل

شامی اپوزیشن رہنماوں کا شرکت سے انکار، امریکا ظاہراً پرامید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

روس کی طرف سے شامی اسد رجیم اور اس شامی اپوزیشن گروپوں کے درمیان رواں ماہ کے دوران مذاکرات کرانے کی کوشش ناکام ہونے کا امکان ہے۔ شامی اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے ان روسی کوششوں پر انگلی اٹھائی ہے اور اس معاملے میں ماسکو پر بھروسہ نہ کرنے کا اشارہ دیا ہے۔

امریکا کی طرف سے ان مذاکرات کی ظاہراً سرکاری طور پر مخالفت نہ کیے جانے کے باوجود سرکاری حکام چھبیس جنوری کو ماسکو میں متوقع ان مذاکرات کو نتیجہ خیز ہوتے نہیں دیکھتے ہیں۔

اسد رجیم کو شام میں اپنے حامیوں کی طرف سے بھی مزاحمت کا سامنا ہے کہ وہ شکست کو اب سامنے دیکھنے لگے ہیں۔ جبکہ اسد رجیم کے بڑے سرپرست روس اور ایران تیل کی عالمی منڈی میں پیدا کر دی گئی صورت حال کے باعث اپنے لیے نہ صرف چبھن محسوس کرتے ہیں بلکہ پریشان ہیں۔

دوسری جانب شامی اپوزیش کے رہنما اپنے غیرمتعلق کر دیے جانے کی وجہ سے جھلاہٹ کا شکار ہیں کہ داعش نے شام کے کئی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ حتی کہ داعش پڑوسی ملک عراق میں بھی کئی علاقوں پر قابض ہو چکی ہے۔

امریکا اپنے اتحادیوں کے ہمراہ داعش پر فضائی حملوں میں مصروف ہے، جبکہ شامی رجیم کو نظر انداز کیے ہوئے ہے۔ امریکا اس موقع پر سفارتی محاذ سے نمایاں طور پر غائب ہے اور اس میدان میں ماسکو متحرک ہو گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے شام کے لیے خصوصی نمائندے سٹیفن میستورا بھی متوازی طور امن عمل کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہے کہ کسی طرح ہلاکتوں کی رفتار کم ہو جائے۔ لیکن روس اپنے مذاکراتی اجلاس کے لیے ابھی تک صرف مدعوئین کی فہرست کو حتمی شکل دینے کے قریب پہنچا ہے۔

روسی حکمت عملی یہ ہے کہ شامی اپوزیشن گروپوں کو امن مذاکرات کی دعوت دینے کے بجائے مختلف رہنماوں کو انفرادی سطح پر دعوت دے۔ گویا اپوزیشن میں موجود فاصلوں کو بڑھانے کی بھی ایک کوشش ہے۔ شامی اپوزیشن اتحاد کے سابق صدر اور مذاکراتی عمل کے دیرینہ حامی معاذ الخطیب نے بھی روسی دعوت کو مسترد کر دیا ہے۔

اہم سوال اس اپوزیش اتحاد کا ہے جس نے جنیوا میں امن مذاکرات میں حصہ لیا تھا لیکن پچھلے سال کے آغاز میں جنیوا ٹو کی صورت میں مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔ اس شامی اہوزیش اتحاد کو مغربی اور عرب ملکوں کی حمایت حاصل ہے۔

نو منتخب اپوزیش اتحاد کے سربراہ خالد الخوجہ نبی ماسکو کی دعوت پر مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ شامی قومی کونسل نے ابھی اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

اس انکار کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ماسکو مذاکرات میں کسی عبوری با اختیار سیاسی بندوبست کا کوئی ذکر ہے نہ ہی اسد کے بغیر شام کی یقین دہانی موجود ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کو البتہ یقین ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب رہیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ کہ روسی تجویز امن کے لیے مددگار رہے گی۔ تاہم امریکی حکام نجی طور پر ان مذاکرات کو بامعنی اور بامقصد نہیں سمجھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں