.

عراق کا تاریخی شہر نمرود داعش کے ہاتھوں مسمار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر دولت اسلامی عراق وشام (داعش) نے عراق میں تاریخی شہروں ،تعمیرات اور نوادرات کو مسمار کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور انھوں نے آشوری دور کے قدیم شہر نمرود میں بیشتر تاریخی عمارات کو ملیامیٹ کردیا ہے۔

عراق کی وزارت سیاحت اور نودرات نے اپنے فیس بُک صفحے پر جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں اطلاع دی ہے کہ ''داعش نے بھاری گاڑیوں کے ساتھ تاریخی شہر نمرود میں عمارتوں کو مسمار کردیا ہے''۔

محکمے کے ایک عہدے دار نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے جمعرات کو نماز ظہر کے بعد نمرود شہر میں تاریخی عمارات کو تباہ کرنے کا آغاز کیا تھا۔انھوں نے تاریخی مجسموں اور نوادرات کو شہر سے کسی اور جگہ منتقل کرنے کے لیے ٹرکوں کو بھی استعمال کیا ہے۔اس عہدے دار کے بہ قول وہ اب یہ نہیں جانتے ہیں کہ داعش کے جنگجو اس قدیم شہر کو کتنا نقصان پہنچا چکے ہیں۔

نمرود کی بنیاد تیرھویں صدی قبل مسیح میں رکھی گئی تھی۔یہ عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل سے قریباً تیس کلومیٹر جنوب مشرق میں دریائے دجلہ کے کنارے واقع ہے۔موصل میں داعش نے گذشتہ سال جون سے حکومت قائم کررکھی ہے اور وہ اس کو اپنے دارالحکومت کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔

آشوری دور کے اس شہر کی تباہی سے ایک ہفتہ قبل داعش کے جنگجو ؤں نے انٹر نیٹ پر ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں ہتھوڑوں اور کلہاڑوں سے مسلح افراد کو ساتویں صدی قبل مسیح کے تاریخی نوادرات اور مجسموں کو توڑتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا۔داعش کا کہنا ہے کہ یہ نوادرات اور مجسمے بت پرستی کی علامتیں ہیں۔اس لیے ان کا نام ونشان مٹایا جارہا ہے۔

تباہ کیے گئے یہ نوادرات اور مجسمے موصل کے عجائب گھر سے لائے گئے تھے۔اس ویڈیو میں داعش کے ایک جنگجو کا کہنا تھا کہ ''آشوری ،الاکدی اور دوسرے کس کی پوجا کیا کرتے تھے ۔یہ لوگ اللہ کے سوا بارش ،زراعت اور جنگ کے خداؤں کی پوجا کیا کرتے تھے اور انھی کو چڑھاوے چڑھایا کرتے تھے''۔بعد عراقی حکام کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس ویڈیو میں نظر آنے والے تین افراد کو شناخت کر لیا ہے۔

عراق سے تعلق رکھنے والی ماہر آثار قدیمہ اور لندن میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف آرکیالوجی کی ایسوسی ایٹ فیلو لیمیا الجیلانی کا اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ''جنگجوؤں نے تاریخی ورثے کو ناقابل بیان اور ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔یہ صرف عراق ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا تاریخی ورثہ تھا۔یہ انمول نوادرات تھے''۔

انھوں نے عراق میں تاریخی نوادرات اور مجسموں کی تباہی کو افغانستان کے صوبے بامیان میں سنہ 2001ء میں سابق طالبان حکومت کی جانب سے بدھا کے مجسموں کو بموں سے اڑانے سے تشبیہ دی تھی۔

تاہم یونیورسٹی کالج لندن میں قدیم مشرق قریب کی تاریخ کی پروفیسر ایلنر رابسن کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں دکھائے گئے بعض نوادرات دراصل ان کی ہوبہو جدید نقلیں ہیں اور اصل نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ داعش کے جنگجو عراق اور شام میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں تاریخی نوادرات ہی کو تباہ نہیں کررہے ہیں بلکہ انھوں نے صوفیہ اور علماء کے متعدد مزارات اور اہل تشیع کی عبادت گاہوں کو بھی ڈھا دیا ہے۔اب ان کے خلاف عراق کے شمالی شہر تکریت میں عراقی فورسز ،شیعہ ملیشیائیں ،سنی رضاکار جنگجو گروپ اور ایران کے خصوصی دستے ایک مشترکہ کارروائی کررہے ہیں۔البتہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موصل سے داعش کے جنگجوؤں کی عمل داری ختم کرانے اور ان کے قلع قمع میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔