.

سیناء:جنگجوؤں کے حملے،15 مصری فوجی ہلاک

فوج کے ساتھ جھڑپوں میں 15 حملہ آور جنگجو بھی مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے شورش زدہ علاقے جزیرہ نما سیناء میں جمعرات کو جنگجوؤں نے بیک وقت مختلف مقامات پر پانچ حملے کیے ہیں جن میں پندرہ فوجی اور دو شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں پندرہ جنگجو بھی مارے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جنگجوؤں نے شمالی سیناء کے صوبائی دارالحکومت العریش سے مشرق میں واقع قصبے شیخ زوید کے جنوب میں مصری سکیورٹی فورسز کے چیک پوائنٹس پر راکٹوں اور خود کار ہتھیاروں سے حملے کیے ہیں۔ان حملوں کے بعد ان کی فوجیوں کے ساتھ لڑائی ہوئی ہے جس میں دونوں طرف سے تیس ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

فوری طور پر کسی گروپ نے ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن ماضی میں سیناء میں مصری سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار داعش سے وابستہ جنگجو گروہ انصار بیت المقدس ان حملوں کی ذمے داری قبول کرتا رہا ہے۔

واضح رہے کہ العریش اور سیناء کے دوسرے علاقوں میں جولائی 2013ء میں منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے جنگجو گروپ سکیورٹی فورسز پر بیسیوں حملے کر چکے ہیں۔ انصار بیت المقدس نے گذشتہ سال کے آخر میں اپنا نام تبدیل کر لیا تھا اوراپنا نیا نام صوبہ سینا رکھ لیا تھا۔

اسی جنگجو گروپ نے جنوری کے آخر میں سیناء میں سکیورٹی فورسز پر بیک وقت متعدد حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔تب العریش میں ایک فوجی اڈے،اس کے نزدیک واقع پولیس ہیڈ کوارٹرز اور پولیس اور فوج کے افسروں کے اقامتی کمپلیکس پر راکٹ اور کاربم حملے میں تیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان میں سے زیادہ تر فوجی تھی۔

شمالی سیناء میں گذشتہ سال اکتوبر میں فوج کے ایک اڈے پر جنگجوؤں کے حملے کے بعد سے رات کا کرفیو نافذ ہے۔اس حملے میں تیس فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔مصری فوج اس وقت سیناء اور غزہ کی پٹی کے درمیان ایک بفر زون بھی قائم کررہی ہے تاکہ فلسطینی علاقے سے جنگجوؤں کی دراندازی کو روکا جاسکے۔