.

حوثی یمن کے بھی وفادار نہیں: عبداللہ بن زاید

سابق یمنی صدر کے بیٹے احمد علی صالح سے سفارتی استثناء واپس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید نے کہا ہے کہ فیصلہ کن طوفان آپریشن یمن میں حوثیوں کے ہاتھوں دستوری حکومت کا تختہ الٹنے کا نتیجہ ہے۔ بحران کے پرامن حل کی سعودی کوششوں کو حوثیوں اور معزول صدر علی عبداللہ صالح نے ماننے سے انکار کیا۔

ابوظہبی میں اپنے یمنی ہم منصب ریاض یاسین کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عبداللہ زاید نے کہا کہ حوثی غیر ملکی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔ وہ خود یمن کے بھی وفادار نہیں ہیں۔

یمن میں ایرانی مداخلت سے متعلق سوال کے جواب میں عبداللہ بن زاید کا کہنا تھا کہ تہران کی مداخلت صرف یمن تک موقوف نہیں۔ ایران کئی برسوں سے باقاعدہ طے شدہ منصوبے کے تحت 'انقلاب' برآمد کرنے کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ ایران کو حوثیوں کی امداد فوری بند کرنی چاہے۔

اماراتی وزیر خارجہ نے کہا کہ فیصلہ کن طوفان کی قانونی حیثیت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ یمن میں مداخلت دستوری حکومت کی حمایت میں ناگزیر ہو گئی تھی۔ یمن میں فیصلہ کن آپریشن کی کارروائی امن کے قیام تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں انسانی صورتحال کی ابتری کی ذمہ داری حوثیوں پر عائد ہوتی ہے۔

عبداللہ بن زاید نے فیصلہ کن طوفان آپریشن میں شرکت کرنے والے ملکوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپیل کی کہ جو لوگ اس میں شامل نہیں ہیں، وہ بھی جلدی شمولیت اختیار کریں۔ بقول عبداللہ بن زاید موجودہ کوششیں انتہا پسندی کے خاتمے میں مدد دیں گی۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے یمنی وزیر خارجہ ریاض یاسین نے کہا کہ فیصلہ کن طوفان کا مقصد سیاسی حل کی تلاش ہے تاکہ یمن اور اہل یمن کو بچایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے سابق صدر کے بیٹے احمد علی صالح کو دیا گیا سفارتی استثناء، تحفظ اور پروٹوکول ختم کر دیا ہے۔ احمد علی صالح کا بطور سفیر متحدہ عرب امارات میں کردار ختم ہو گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران ایک عرصے سے خود کو یمن میں مسلط کرنے کی کوشش کرتا چلا آیا ہے۔ اس سے قبل وہ یمن میں جاسوس اور اسلحہ بھجواتا رہا ہے۔ حوثیوں کی بڑی تعداد کو ایرانی پاسداران انقلاب نے تربیت دی ہے۔ نیز بقول ریاض یاسین ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار یمنی سرزمین پر 'داد شجاعت' دے رہے ہیں۔