.

النصرہ فرنٹ کا شامی شہر پر قبضہ، سڑکیں لاشوں سے بھر گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی شمال مغربی الاذقیہ گورنری سے متصل تزویراتی اہمیت کے حامل شہر 'جسر الشغور' پر القاعدہ نواز گروپ ’’النصرہ فرنٹ‘‘ نے قبضہ کرنے کے بعد تمام فوجی چیک پوسٹوں سے شامی فوجیوں کو نکال باہر کیا ہے۔ ادھر دوسری جانب باغیوں کے ساتھ گھمسان کی لڑائی کے دوران بڑی تعداد میں شامی فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ انسانی حقوق کے مندوبین کا کہنا ہے کہ جسر الشغور شہر کی سڑکیں شامی فوجیوں کی لاشوں سے بھر گئی ہیں۔

شام میں انقلابی کارکنوں کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ القاعدہ نواز گروپ نے چار سال میں پہلی بار وسطی شام میں نہایت اہمیت کے حامل شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کیا ہے۔

انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے شامی آبزرویٹری کے مطابق لڑائی کے دوران 60 شامی فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور ان کی میتیں سڑکوں پر پڑی ہیں۔

آبزرویٹری کی جانب سے میڈیا کو جاری ایک ای میل میں بتایا کہ اُنہیں مصدقہ ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ جسرالشغور میں لڑائی کےدوران کم سے کم ساٹھ شامی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے اور ان کی لاشیں سڑکوں پر پڑی ہیں۔ ہلاک ہونے والے فوجیوں میں کئی سینیر افسر بھی شامل ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ پچھلے تین روز سے جسرالشغور میں بشار الاسد کی وفادار فوج اور ملیشیا کی ایک شدت پسند باغی گروپ کے خلاف لڑائی جاری تھی، جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق تین روزہ لڑائی میں اڑھائی سو سے زیادہ فوجی مارے گئے ہیں۔

شام میں رابطہ کمیٹیوں کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات میں بھی جسرالشغور میں القاعدہ نواز گروپ کے قبضے کی تصدیق کی گئی ہے۔ رابطہ کمیٹیوں کی اطلاعات کے مطابق شام کے شمال مغربی ضلع ادلب میں جسرالشغور پر قبضے کے لیے النصرہ فرنٹ نے بھرپور حملہ کیا جس کے نتیجے میں شامی فوج کو تمام اہم فوجی چیک پوسٹیں خالی کر کے پسپا ہونا پڑا ہے۔

خیال رہے کہ جسرالشغور شہر کو شام کے دفاعی اہمیت کے لحاظ سے اہم ترین شہروں میں شمار کیاجاتا ہے۔ جسرالشغور پر قبضے سے باغیوں کے لیے اللاذقیہ پر قبضہ کرنا آسان ہوگیا ہے۔

انسانی حقوق کے مندوب رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ ہفتے کے روز النصرہ فرنٹ اور دیگر اسلام پسند مذہبی عسکریت پسند گروپ جسرالشغور میں داخل ہوگئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ شامی فوجیوں اور القاعدہ نواز گروپ کے درمیان جمعرات کے روز سے بھرپور لڑائی جاری تھی۔

انسانی حقوق کے مندوب کا کہنا ہے کہ جسرالشغور شہر میں النصرہ فرنٹ اور الکتائب الاسلامیہ کے ہزاروں جنگجو موجود ہیں جبکہ شامی فوج شہر کے بیشتر علاقوں سے نکل چکی ہے۔

ادھر شام کے سرکاری ٹی وی پر ایک مختصر خبر میں بتایا گیا ہے کہ ادلب اور اس کے مضافات میں فوج اور شدت پسندوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی ہو رہی ہے۔ شدت پسند جسرالشغور شہر پرقبضے کے لیے مسلسل حملے کررہے ہیں تاہم ٹی وی رپورٹ میں اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔

خیال رہے کہ النصرہ فرنٹ کے مقرب دیگر جنگجو گروپوں بالخصوص جیش الفتح احرار الشام کی جانب سے جمعرات کے روز جسرالشغور شہر پر قبضے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

یہ امرقابل ذکر رہے کہ 28 مارچ کو ادلب سے انخلاء کے بعد شامی فوج نے جسرالشغور کو اپنا مرکز بنایا تھا۔ مارچ کے آخر میں جیش الفتح نامی گروپ نے ’’غزہ ادلب‘‘ نامی معرکے میں ادلب شہر کے بیشتر حصے پر اپنا کنٹرول قائم کرلیا تھا۔

انسانی حقوق کے مندوب رامی عبدالرحمان کے مطابق ادلب گورنری میں جسرالشغور نہایت اہمیت کا حامل شہر ہے جس پرقبضے کا مطلب لاذقیہ اور شمال مشرقی حماۃ پرقبضے کی راہ ہموار کرنا ہے۔