جی سی سی سمٹ: ایران سے نارمل تعلقات چاہتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خلیج تعاون کونسل 'جی سی سی' کے رکن ممالک کے ایک سربراہی اجلاس میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے شرکاء کو بتایا کہ ہم ایران سے عدم مداخلت کی پالیسی کی بنا پر معمول کے تعلقات چاہتے ہیں۔

سعودی عرب کے شاہ سلمان نے ایران کی جانب واضح اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’’سعودی عرب کو ایک ایسے بیرونی خطرے کا سامنا ہے، جو خطے پر اپنی بالادستی مسلط کرنا چاہتا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف علاقے کا استحکام خطرے میں ہے بلکہ یہی سوچ خطے میں فرقہ واریت میں اضافے کا سبب بھی بن رہی ہے۔‘‘ ریاض منعقدہ اس اجلاس میں بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارت کے سربراہ شریک ہوئے۔

خلیجی تعاون کونسل ’جی سی سی‘ کا یہ اجلاس ایک ایسے وقت پر ہوا ہے، جب یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی سربراہی میں کی جانے والی اتحادی عسکری کارروائیوں پر دنیا بھر کے تحفظات میں اضافہ ہو رہا ہے اور خلیجی ممالک کو عسکریت پسندوں اور اپنے حریف ایران کی جانب سے بھی خطرات کا سامنا ہے۔

عمان کے علاوہ تمام خیلجی ممالک حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں شرکت کر رہے ہیں۔ حوثیوں نے یمنی دارالحکومت صنعاء کے ساتھ ساتھ ملک کے کئی اہم علاقوں پر بھی قبضہ کیا ہوا ہے۔ عدن میں باغیوں کی پیش قدمی کے بعد یمنی صدر منصور ہادی ریاض میں مقیم ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے مطابق انیس مارچ سے اب تک یمنی تنازعے میں بارہ سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس عالمی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اس ملک کو شدید انسانی بحران کا بھی سامنا ہے۔ درایں اثناء سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ وہ امدادی سرگرمیوں کے لیے فضائی حملوں میں وقفہ کرنے پر غور کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں