.

عراق : خالدیہ پر قبضے کے لیے داعش کا حملہ پسپا

عراقی فوج نے الرمادی اور فلوجہ کے درمیان واقع قصبے پر دھاوا ناکام بنا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی سرکاری فوج اور ان کے اتحادی مسلح سنی جنگجوؤں نے مغربی صوبے الانبار کے قصبے خالدیہ پر قبضے کے لیے داعش کا حملہ پسپا کردیا ہے۔

الانبار سے تعلق رکھنے والے ایک قبائلی سردار شیخ رفیع الفہداوی نے منگل کے روز صحافیوں کو بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے نصف شب کے بعد صوبائی دارالحکومت الرمادی اور فلوجہ کے درمیان واقع قصبے خالدیہ پر قبضے کے لیے حملہ کیا تھا۔انھوں نے خالدیہ کے نواح میں واقع ایک چھوٹے گاؤں پر قبضہ کر لیا ہے لیکن قصبے پر ان کے قبضے کی کوشش ناکام بنادی گئی ہے۔

اس قبائلی سردار نے مزید بتایا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی میں کوئی فوجی یا قبائلی جنگجو ہلاک نہیں ہوا ہے۔ داعش نے اتوار کو گذشتہ کئی روز کی لڑائی کے بعد الرمادی پر قبضہ کر لیا تھا اور سرکاری سکیورٹی فورسز کے اہلکار وہاں سے بھاگ گئے تھے۔

عراق میں گذشتہ سال اگست میں داعش کے خلاف امریکی فوج کے فضائی حملوں اور عراقی فورسز اور پیراملٹری دستوں کی ان کے خلاف کارروائی کے آغاز کے بعد الرمادی پہلا بڑا شہر ہے جس پر سخت گیر جنگجوؤں نے قبضہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) نے داعش کے الرمادی پر قبضے کو ایک ہزیمت قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی کہا ہے کہ عراقی حکومت امریکا کی فضائی قوت کی مدد سے دوبارہ اس مغربی شہر کا کنٹرول حاصل کر لے گی۔