الرمادی کے مشرق میں داعش کا تیسرا حملہ پسپا
سخت گیر جنگجو گروپ صوبہ الانبار میں اپنی گرفت مضبوط بنانے کے لیے کوشاں
عراقی فورسز نے مغربی شہر الرمادی کے مشرق میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کا تیسرا حملہ پسپا کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
عراقی فورسز الرمادی پر دوبارہ کنٹرول کے لیے اب نواحی علاقوں میں مجتمع ہورہی ہیں اور انھوں نے شہر اور ایک فوجی اڈے کے درمیان واقع حسیبہ الشرقیہ میں نیا محاذ کھول لیا ہے۔داعش کے جنگجوؤں نے بدھ کی رات عراقی فورسز کی اس دفاعی لائن کو توڑنے کی کوشش کی تھی۔اس کے بعد سے پولیس اور حکومت نواز سنی جنگجوؤں کا داعش کے مزاحمت کاروں کے ساتھ وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے اور وہ ایک دوسرے پر مارٹر گولے بھی فائر کررہے ہیں۔
الرمادی پر داعش کے جنگجوؤں نے گذشتہ اتوار کو قبضہ کیا تھا۔گذشتہ ایک سال کے دوران عراقی سکیورٹی فورسز کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہے اور اس کے بعد سے امریکا کی داعش کو کمزور کرنے اور تباہ کرنے کی حربی حکمت عملی کے حوالے سے سوال اٹھائے جارہے ہیں۔
داعش کے جنگجو اب عراق کے سب سے بڑے صوبے الانبار پر اپنی گرفت مضبوط بنانے کی کوشش کررہے ہیں اور وہ مشرق میں واقع قصبے حبانیہ کی جانب بھی پیش قدمی کررہے ہیں جہاں عراقی فورسز اور شیعہ نیم فوجی دستے جنگجوؤں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کے لیے جمع ہورہے ہیں۔
عراقی پولیس کے ایک میجر خالد الفہداوی کا کہنا ہے کہ ''داعش کے جنگجو ہمارے دفاع کو توڑنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن یہ اب ناممکن ہے۔ہم نے صدمہ سہہ لیا ہےاب مزید کمک محاذ جنگ کی جانب آرہی ہے۔انھوں نے رات کو ہماری دفاعی لائن توڑنے کی کوشش کی تھی لیکن آرمی کے ہیلی کاپٹر ان پر حملے کے پہلے ہی منتظر تھے''۔
حبانیہ صوبہ الانبار کے ان چند علاقوں میں سے ایک ہے جہاں حکومت کا کنٹرول برقرار ہے اور یہ داعش کے زیر قبضہ شہروں الرمادی اور فلوجہ کے درمیان واقع ہے۔مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اب جنگجو وادی فرات کے اردن اور سعودی عرب کی سرحد کے ساتھ واقع علاقوں کی جانب بھی بڑھ رہے ہیں۔