.

رمادی کی بربادی کے لیے100 اسکڈ میزائل ایران سے عراق منتقل

'داعش کے خلاف کارروائی کو "آپریشن یاحسین" کا نام دیا گیا ہے'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شہر الرمادی پر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ "داعش" کے قبضے کے بعد ایران اور عراق کی شیعہ ملیشیا نے شہر کو شدت پسندوں کے قبضے سے چھڑانے کی مہم شروع کی ہے۔ اسی دوران یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ الرمادی کی تباہی اور بربادی کے لیے ایران کے 100 "اسکڈ" میزائل بھی عراق منتقل کیے جا رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں بغداد میں ایرانی شیعہ ملیشیا کے کمانڈر ھادی العامری اور ایرانی پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس اہلکاروں کا ایک خفیہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں زمین سے زمین تک مار کرنے والے ایرانی "اسکڈ" میزائل بغداد منتقل کرنے کی تجویز کو حتمی شکل دی گئی۔

"فری وائسز" نامی ایک ویب سائیٹ کے مطابق ایرانی انٹیلی جنس حکام نے عراق کی شیعہ ملیشیا کو مشورہ دیا کہ تہران سے لائے جانے والے اسکڈ میزائل دارالحکومت بغداد، کربلا اور صوبہ الانبار میں نصب کیے جائیں اور بووقت ضرورت انہیں باغیوں کے خلاف استعمال کیا جائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران سے "اسکڈ" میزائلوں کی پہلی کھیپ بغداد میں النخیب کے مقام پر پہنچا دی گئی ہے اور دوسرے میزائل بھی مرحلہ وار منتقل کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق الرمادی پر "داعش" کے قبضے کے بعد ایرانی انٹیلی جنس اہلکاروں، پاسداران انقلاب اور عراق کی "الحشد الشعبی" نامی شیعہ ملیشیا کے درمیان داعش کو شکست دینے کے لیے مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ایرانی انٹیلی جنس اہلکار اور عراقی شیعہ ملیشیا سب ہی داعش کے شدت پسندوں کے خلاف اسکڈ میزائلوں کے استعمال کے حامی ہیں۔

پاسداران انقلاب کےایک افسر نے بتایا کہ وہ صوبہ الانبار کے مرکزی شہر الرمادی پر اسکڈ میزائلوں سے حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ میزائل پورے شہر کو آبادی سمیت تباہ کردیں گے۔

خیال رہے کہ ایران کے "اسکڈ" میزائل عراق پہنچائے جانے کی یہ خبر ایک ایسے وقت میں منظرعام پرآئی ہے جب عراقی حکومت نے الرمادی کو داعش کے قبضے سے چھڑانے کے لیے کل منگل کے روز آپریشن کا آغاز کردیا تھا۔ آپریشن میں عراقی فوج، نیم فوجی دستے، غیرسرکاری ملیشیا "الحشد الشعبی" جس کی قیادت ھادی العامری اور نافع عیسیٰ الامارہ کررہے ہیں، بھی شامل ہیں۔

شیعہ ملیشیا کے ترجمان احمد الاسدی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ الرمادی میں "داعش" کے خلاف جاری کارروائی کو "آپریشن یاحسین" کا نام دیا گیا ہے۔