.

حماس، مصر میں اب دہشت گرد نہیں رہی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے فلسطین میں سرگرم اسلامی مزاحمت 'حماس 'کے بارے میں ایک اور ملکی عدالت کا وہ فیصلہ منسوخ کر دیا ہے، جس میں تنظیم کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اس کا نام بلیک لسٹ تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

دارالحکومت قاہرہ سے العربیہ کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ ماضی میں حماس کے بارے میں ایک مصری ٹرایبیونل کے فیصلے کو ہفتہ کے روز اس لیے منسوخ کر دیا گیا کہ متعلقہ عدالت کو یہ اختیار ہی نہیں تھا کہ وہ اس قسم کے فیصلے سنا سکے۔

حماس کے خلاف گذشتہ فیصلہ اس سال فروری میں ایک مصری وکیل کی درخواست پر سنایا گیا تھا۔ تب اس وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ یہ عسکریت پسند فلسطینی تنظیم بہت سی زیر زمین سرنگوں کے ذریعے مصر میں ہتھیاروں کی اسمگلنگ میں ملوث تھی اور عدالت نے اپنے فیصلے میں حماس کو دہشت گرد قرار دے کر اس کا نام ممنوعہ تنظیموں کی فہرست میں شامل کیے جانے کا حکم سنا دیا تھا۔

چند ماہ پہلے کے اس عدالتی فیصلے کا مصری حکام اور حماس کے مابین تعلقات پر انتہائی برا اثر پڑا تھا۔ مارچ میں قاہرہ حکومت نے ایک اعلٰی عدالت میں یہ اپیل دائر کر دی تھی کہ حماس کے خلاف فیصلہ منسوخ کیا جائے۔ اب اس عدالت نے اپنا فیصلہ قاہرہ حکومت کے حق میں سناتے ہوئے حماس کو دہشت گرد قرار دینے کا گزشتہ فیصلہ منسوخ کر دیا ہے۔

اسی سال جنوری میں مصر کی ایک عدالت نے پہلے حماس کے عسکری بازو عزالدین القسام بریگیڈ کو باقاعدہ طور پر ایک ’دہشت گرد گروپ‘ قرار دے دیا تھا۔ پھر فروری میں جب حماس کو بھی دہشت گرد قرار دے دیا گیا تو حماس کی قیادت کی طرف سے اس کی بھرپور مذمت کی گئی تھی۔ اب آج کے عدالتی فیصلے پر حماس کی طرف سے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے، ’’حماس اس فیصلے کا خیر مقدم کرتی ہے۔ نئے عدالتی فیصلے نے گ‍زشتہ غلط فیصلے کی تصحیح کر دی ہے۔‘‘

اسی سال جنوری میں مصر کی ایک عدالت نے حماس کے عسکری بازو عزالدین القاسم بریگیڈ کو باقاعدہ طور پر ایک ’دہشت گرد گروپ‘ قرار دے دیا تھا۔

مشرق وسطٰی میں مصر روایتی طور پر اسرائیل اور حماس کے مابین ثالث کا کردار ادا کرتا آیا ہے۔ اسی لیے قاہرہ حکومت نے اس سال مارچ میں حماس کے دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے خلاف عدالتی اپیل دائر کی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ اسرائیل اور حماس کے مابین ثالثی کوششوں کے لیے مصر کا کردار متنازعہ یا جانبدار نہ ہونے پائے اور وہ خلیج مزید گہری نہ ہو جو مصر میں 2013ء میں اسلام پسند صدر محمد مرسی کا تختہ الٹے جانے کے بعد قاہرہ اور حماس کے درمیان پیدا ہو گئی تھی۔

حماس اور مصر کے آپس کے تعلقات کا یہ پس منظر بھی بہت اہم ہے کہ ڈاکٹر محمد مرسی کا تختہ ملکی فوج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی نے الٹا تھا، جو اس وقت مصر کے منتخب صدر ہیں۔ پھر مرسی کی سیاسی جماعت اور ان کی نظریاتی سرپرست اسلام پسند تحریک اخوان المسلمون پر بھی مصر میں پابندی لگا کر اسے دہشت گرد قرار دے دیا گیا تھا حالانکہ حماس ،تحریک بھی اخوان المسلمون ہی کا حصہ ہے۔

مصری حکام کا الزام ہے کہ حماس تحریک ان جہادیوں کی پشت پناہی کرتی ہے، جو جزیرہ نما سیناءمیں مصری سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں۔ جغرافیائی طور پر سینائی کی سرحدیں غزہ پٹی کے اس فلسطینی علاقے سے ملتی ہیں، جہاں حماس کی حکومت ہے۔ اس کے علاوہ مارچ 2014ء میں مصر نے اپنی سرزمین پر حماس کی ہر قسم کی سرگرمیوں کو ممنوع قرار دیتے ہوئے مصر میں اس تحریک کے تمام اثاثے بھی منجمد کر دیے تھے۔