.

سیناء :مصری فوج کے فضائی حملوں میں 23 جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری فوج نے شورش زدہ علاقے جزیرہ نما سیناء میں خونریز جھڑپوں کے ایک روز بعد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں تئیس جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

مصری فوج کے ترجمان کے مطابق جمعرات کے روز ہلاک ہونے والوں نے بدھ کو فوجی چیک پوائنٹس پر حملوں اور لڑائی میں حصہ لیا تھا۔گذشتہ روز جھڑپوں اور فوج کی جوابی کارروائیوں میں ایک سو جنگجو ہلاک ہوگئے تھے جبکہ جنگجوؤں کے چیک پوائنٹس پر حملوں میں چار افسروں سمیت سترہ فوجی مارے گئے تھے۔

درایں اثناء دارالحکومت قاہرہ سے جنوب مغرب میں اسی کلومیٹر دور واقع شہر فایوم میں مسلح افراد نے ایک بنک کے باہر تعینات سکیورٹی گارڈ کو فائرنگ کر کے ہلاک کردیا ہے۔فوری طور یہ واضح نہیں ہوا کہ یہ واقعہ جنگجوؤں کے حملے کا نتیجہ ہے یا مجرمانہ کارروائی کا شاخسانہ ہے۔

سیناء پر فوج کا مکمل کنٹرول

قبل ازیں مصری فوج کے ترجمان نے خونریز جھڑپوں اور جنگجوؤں کے خلاف کارروائیوں کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ جزیرہ نما سیناء میں صورت حال کو کنٹرول کر لیا گیا ہے۔

ترجمان محمد سنیر نے ٹیلی فون کے ذریعے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''سیناء کا شمالی حصہ اس وقت سو فی صد کنٹرول میں ہے''۔

دولت اسلامی عراق وشام (داعش) کی مصر میں شاخ صوبہ سیناء نے فوجی چیک پوائنٹس پر حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔داعش کی جانب سے سوشل میڈیا کی ویب سائٹس پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ ''خلافت کے شیر اللہ کی مہربانی سے بیک وقت ''غدار فوج'' کے پندرہ چیک پوائنٹس پر حملوں میں کامیاب رہے ہیں''۔

علاقے میں جنگجوؤں اور فوجیوں کے درمیان کئی گھنٹے تک لڑائی جاری رہی تھی۔جزیرہ نما سیناء میں داعش کے فوجی چیک پوائنٹس پر حملوں سے دو روز قبل ہی دارالحکومت قاہرہ میں ایک خودکش کار بم دھماکے میں مصر کے پراسیکیوٹر جنرل ہشام برکات ہلاک ہوگئے تھے۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ان کے اندوہناک قتل کے بعد کہا ہے کہ اب جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں تیزی لائی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ داعش سے وابستہ گروپ صوبہ سیناء اور دوسرے جنگجو گروپ مصر کے وجود ،خطے کے دوسرے ممالک اور مغرب کے لیے خطرہ ہیں۔

واضح رہے کہ شمالی سیناء میں جنگجو گذشتہ کئی سال سے مصری سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار تھے لیکن جولائی 2013ء میں ملک میں پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے ان کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے اور گذشتہ دوسال کے دوران ان کے حملوں میں سکیورٹی فورسز کے سیکڑوں اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔مصری فوج ایک بڑے کریک ڈاؤن کے باوجود ان کا مکمل طور پر استیصال کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔