.

یاسر عبد ربہ 'پی ایل او' کے سیکرٹری نہیں رہے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تنظیم آزادی فلسطین [پی ایل او] نے گذشتہ روز صدر محمود عباس کی زیرصدارت اجلاس میں تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سیکرٹری اور سرکردہ لیڈر یاسر عبد ربہ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 'پی ایل او' کی انتظامی کمیٹی کے سینیر رُکن احمد مجدلانی نے بتایا کہ اجلاس میں یاسر عبد ربہ کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

ریڈیو "وائس آف فلسطین" سے بات کرتے ہوئے احمد مجدلانی کا کہنا تھا کہ پی ایل او کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سیکرٹری کے عہدے کے لیے کسی مناسب شخص کی تقرری تک یہ عہدہ عارضی طور پر صدر محمود عباس کے پاس رہے گا۔

اب محمود عباس فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ کے ساتھ ساتھ تنظیم آزادی فلسطین کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سیکرٹری کی خدمات بھی انجام دیں گے اور ساتھ ہی ساتھ وہ مغربی کنارے کی حکمراں جماعت تحریک فتح کی قیادت بھی جاری رکھیں گے۔ محمود عباس نے کئی دیگر کلیدی عہدے بھی اپنے پاس سنھبال رکھے ہیں۔ وہ فلسطینی سیکیورٹی فورسز کے سپریم کمانڈر بھی ہیں اور سنہ 2007ء سے تعطل کا شکار پارلیمنٹ کی جگہ آئین سازی کا اختیار بھی رکھتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں احمد مجدلانی کا کہنا تھا کہ عبد ربہ کو ان کے عہدے سے تحریک فتح اور پی ایل اوکی صفوں میں پائے جانے والے اختلافات کا نتیجہ نہیں تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی فلسطین کی اندرونی سیاسی کشمکش ہی کا نتیجہ ہے۔

ادھر یاسر عبد ربہ کا کہنا ہے کہ انہیں باضابطہ طور پر عہدے سے ہٹانے جانے کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی سبکدوشی کی خبر ذرائع ابلاغ سے سنی ہے۔

اگرچہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے بھی یاسرعبد ربہ کو 'پی ایل او' کے سیکرٹری کے عہدے سے سبکدوش کیے جانے سے متعلق سرکاری سطح پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم احمد مجدلانی جیسے ایک ذمہ دار رکن کی جانب سے یہ دعویٰ کرنا غلط نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایل او کی ایگزیکٹو کمیٹی کے آئندہ ہونے والے اجلاس میں نئے سیکرٹری کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔

خیال رہے کہ فلسطین کے سیاسی حلقوں بالخصوص تحریک "فتح" کی قیادت کی جانب سے کچھ عرصے سے نائب صدر کے عہدے کی تجاویز منظرعام پر آتی رہی ہیں تاہم فلسطینی قانون میں نائب صدر کا عہدہ نہ ہونے کی وجہ سے کسی شخص کا اس عہدے پر تقرر نہیں کیا گیا ہے۔ آئین میں ترمیم کے ذریعے ہی نائب صدر کا عہدہ تخلیق کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت چونکہ پارلیمنٹ عضو معطل ہے اس لیے فوری قانون سازی کا بھی امکان نہیں۔ الا یہ کہ صدر محمود عباس پارلیمنٹ کو بائی پاس کرتے ہوئے کوئی فیصلہ کر دیں۔

یاد رہے کہ 71 سالہ یاسر عبد ربہ فلسطین کے کہنہ مشق سیاست دان ہیں۔ وہ سنہ 2005ء سے پی ایل او کی ایگزیکٹو کمیٹی کے سیکرٹری ہے عہدے پر تعینات چلے آ رہے ہیں۔ سابق فلسطینی لیڈر یاسرعرفات کے دور میں یہ عہدہ موجودہ صدر محمود عباس کے پاس تھا۔ یاسرعرفات کی وفات کے بعد محمود عباس فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ منتخب ہوئے اور یاسرعبد ربہ کو ایگزیکٹو کمیٹی کا سیکرٹری مقرر کیا گیا تھا۔