.

اسرائیلی فوجیوں نے ایک اور فلسطینی کو شہید کردیا

الخلیل کے نواح میں واقع گاؤں میں فوجیوں کی پچاس سالہ فلسطینی پر فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوجیوں نے غربِ اردن کے شہر الخلیل میں کریک ڈاؤن کارروائی کے دوران ایک فلسطینی کو گولی مار کر شہید کردیا ہے۔گذشتہ چوبیس گھنٹے میں قابض فوجیوں کے ہاتھوں یہ دوسرے فلسطینی کی شہادت ہے۔

اسرائیلی فوجیوں نے الخلیل کے نزدیک واقع گاؤں بیت عمر میں جمعرات کو ایک فلسطینی کی گرفتاری کے لیے یہ چھاپہ مار کارروائی کی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق انھوں نے پچاس سالہ فلاح ابو ماریہ کو سینے میں گولی مار کر شہید کیا ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے ان کے چوبیس سالہ بیٹے محمد کو گرفتار کرنے کے لیے ان کے مکان پر دھاوا بولا تھا۔فلاح اس وقت چھت پر تھے اور اسرائیلی فوجیوں کی دراندازی کے بعد نیچے آنے کے لیے سیڑھیوں سے اُتر رہے تھے۔اس دوران صہیونی فوجیوں نے انھیں فائرنگ کرکے موت کی نیند سلا دیا۔

چوبیس سالہ محمد بھی فائرنگ کی زد میں آگیا اور اس کی ٹانگ میں گولی لگی ہے۔اسرائیلی فوج کی ایک خاتون ترجمان نے حسبِ معمول واقعے سے متعلق مختلف کہانی بیان کی ہے اور کہا ہے کہ فورسز پر ایک متشدد ہجوم نے حملہ کردیا تھا۔ترجمان نے کہا کہ ایک شخص نے ایک فوجی پر حملہ کیا تھا جس کے جواب میں اس کی ٹانگ پر گولی ماری گئی ہے۔

خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ زخمی شخص کو اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔تاہم اس نے اس کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے مگر کہا ہے کہ مشتبہ شخص کو حراست میں نہیں لیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوجیوں نے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے شہر جنین کے نزدیک ایک گاؤں برقین میں بدھ کو چھاپہ مار کارروائی کے دوران ایک بائیس سالہ فلسطینی نوجوان کو گولی مار کر شہید کردیا تھا۔اسرائیلی فوجیوں نے اس فلسطینی کو بھی سیدھے چھاتی میں گولی ماری تھی۔

فلسطین کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔فلسطینی تنظیم برائے انسانی حقوق کے ترجمان نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ہلاکتیں انسانیت کے خلاف جُرم ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اسرائیلی فوجی آئے دن غربِ اردن کی خودمختاری کو تار تار کرتے رہتے ہیں اور وہ چھاپہ مار کارروائیوں سے قبل فلسطینی حکام کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کرتے ہیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قابض حکام نے اب شہریوں کو گرفتار کرنے یا ان سے تحقیقات سے قبل ہی انھیں براہ راست ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔