.

فلسطینی شیر خوار کے قتل کا ملزم انتہاپسند یہودی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے غرب اردن کے علاقے میں گذشتہ ہفتے ایک فلسطینی خاندان کے مکان کو نذرآتش کرنے اور شیرخوار فلسطینی بچے کو زندہ جلانے کے واقعے میں ملوّث انتہا پسند یہودی گروپ کے سرغنہ کو گرفتار کر لیا ہے اور اس سے پوچھ تاچھ شروع کردی ہے۔

اسرائیل کی داخلی سکیورٹی کی ذمے دار ایجنسی شین بیت کے مطابق میرایٹنگر نامی اس تیئس سالہ مشتبہ نوجوان کو ایک انتہا پسند یہودی تنظیم سے تعلق کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

البتہ ایجنسی نے یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ مشتبہ شخص اکتیس جولائی کو فلسطینی خاندان کے مکان کو نذرآتش کرنے کے واقعے میں براہ راست ملوّث ہے یا نہیں۔اس واقعے میں اٹھارہ ماہ کا شیر خوار فلسطینی بچہ علی دوابشہ زندہ جل گیا تھا اور اس کا بھائی اور والدین شدید زخمی ہوگئے تھے۔شین بیت کا کہنا ہے کہ گرفتار ایٹنگر انتہا پسند تحریک کا سربراہ تھا جو مسیحیوں کے مقامات اور فلسطینیوں کے مکانوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہی تھی۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے یہودی انتہا پسندوں کے حالیہ دو حملوں کے بعد کہا ہے کہ یہودی دہشت گردی سے کوئی رو رعایت نہیں برتی جائے گی۔فلسطینی شیر خوار کو زندہ جلائے جانے کے واقعے سے ایک روز قبول ہم جنسوں کے مخالف ایک الٹرا آرتھوڈکس یہودی نے مقبوضہ بیت المقدس میں گَے پرائڈ پریڈ کے دوران ایک سولہ سالہ لڑکی کو چاقو گھونپ کر قتل کردیا تھا۔

اسرائیلی میڈیا نے میر ایٹنگر کو شین بیت کو سب سے زیادہ مطلوب یہودی انتہا پسند قرار دیا ہے۔اس کو ماضی میں بھی متعدد مرتبہ گرفتار کیا جاچکا ہے۔وہ انتہا پسند قوم پرست آنجہانی ربی میر کہان کا پوتا ہے۔اس یہودی ربی پر 1988ء میں اس کے انتہاپسندانہ ںظریات کی وجہ سے اسرائیلی پارلیمان نے پابندی لگا دی تھی۔اس کو 1990ء میں ایک عرب نے گولی مار کر قتل کردیا تھا۔

شین بیت نے میر ایٹنگر کی انتہاپسندانہ سرگرمیوں کے پیش نظر اس کے مقبوضہ بیت المقدس اور غربِ اردن کے علاقے میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔اس کی دہشت گرد تحریک پر غرب اردن میں دو گرجا گھروں پر حملوں کے الزامات بھی عاید کیے جاچکے ہیں لیکن شین بیت نے دہشت گردی کی ان کارروائیوں کے باوجود اس انتہا پسند گروہ کے خلاف اس سے پہلے کوئی کارروائی نہیں کی تھی اور اب اس نے اسرائیلی رائے عامہ کے دباؤ کے بعد اس کی جانب رُخ کیا ہے۔