امریکا کے تربیت یافتہ پانچ شامی باغی النصرۃ محاذ نے پکڑ لیے
شام میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ نے امریکا کے تربیت یافتہ پانچ اور شامی باغیوں کو ایک گاؤں پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران گرفتار کر لیا ہے۔
برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے منگل کے روز اطلاع دی ہے کہ النصرۃ محاذ کے جنگجوؤں نے ترکی کی سرحد کے نزدیک شمال مغربی صوبے ادلب میں واقع گاؤں قاح میں بے گھر افراد کے لیے قائم ایک کیمپ میں چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور ڈویژن 30 سے تعلق رکھنے والے پانچ باغیوں کو پکڑ کر ساتھ لے گئے ہیں۔
ان شامی باغیوں نے اس مہاجر کیمپ میں پناہ لے رکھی تھی۔رامی عبدالرحمان نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ النصرۃ کے جنگجوؤں کو پانچ باغیوں کو ساتھ لے جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے لیکن ان کی تعداد زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔
آبزرویٹری کے سربراہ کا کہنا ہے کہ النصرۃ کے جنگجو صوبہ ادلب اور اس کے پڑوس میں واقع صوبہ حلب میں امریکا کے تربیت یافتہ شامی باغیوں کو تلاش کرکے پکڑ رہے ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع پنیٹاگان کے زیر اہتمام تربیت پانے والے چوّن شامی باغیوں پر مشتمل یونٹ کو جولائی کے وسط میں صوبہ حلب میں داعش کے خلاف لڑائی کے لیے بھیجا گیا تھا۔اعتدال پسند سمجھے جانے والے ان باغیوں کو داعش کے خلاف مہم کے تحت فوجی تربیت دی گئی ہے۔
لیکن النصرۃ محاذ کے جنگجو داعش سے شدید مخاصمت کے باوجود اس یونٹ کے باغیوں پر حملہ آور ہورہے ہیں۔ گذشتہ بدھ کے روز صوبہ حلب میں النصرۃ محاذ نے امریکی فوجیوں سے تربیت پانے والے اسی یونٹ کے آٹھ باغیوں کو یرغمال بنا لیا تھا لیکن پینٹاگان نے ان کے اغوا کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ''نئی شامی فورس'' کا کوئی رکن اغوا یا گرفتار نہیں ہوا ہے۔
انھوں نے جمعہ کے روز ڈویژن 30 کے صوبہ حلب میں واقع ہیڈ کوارٹرز پر بھی حملہ کیا تھا اور اس میں پانچ تربیت یافتہ باغی ہلاک ہوگئے تھے۔اس حملے کو امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں کی النصرۃ کے جنگجوؤں پر فضائی بمباری کی مدد سے پسپا کردیا گیا تھا۔اتحادی طیاروں نے حلب شہر کے شمال میں واقع قصبے اعزاز میں النصرۃ محاذ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔