امدادی رقوم کی عدم دستیابی ،لاکھوں عراقی خطرے سے دوچار
عراق کے لیے اقوام متحدہ کی انسانی رابطہ کار نے کہا ہے کہ امدادی رقوم کی عدم دستیابی کی وجہ سے بیس لاکھ سے زیادہ عراقیوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہوگئی ہیں۔
لیس گرانڈے نے بغداد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''فوڈ پائپ لائن ،جس پر بیس لاکھ سے زیادہ افراد کی زندگیوں کا انحصار ہے،اکتوبر میں منقطع ہوجائے گی۔اس کے منقطع ہونے سے قبل ہمارے پاس صرف آٹھ ہفتے ہیں۔اب اس پائپ لائن کے ذریعے خوراک کی قلّت کا شکار خاندانوں کو صرف اضافی امداد دی جا رہی ہے۔اگر یہ پائپ لائن منقطع ہوجاتی ہے تو اس سے خوراک کا عدم تحفظ شدت اختیار کر جائے گا''۔
اقوام متحدہ کے تحت حقوق اطفال کے ادارے یونیسیف نے عراق میں داعش اور سرکاری سکیورٹی فورسز کے درمیان جنگ سے پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کے لیے چار جون کو پچاس کروڑ ڈالرز کی امداد کی اپیل کی تھی۔
مس لیس گرانڈے نے بتایا ہے کہ اس میں سے اب تک صرف دس کروڑ ڈالرز کی رقم ہی وصول ہوئی ہے۔ہمیں توقع ہے کہ مزید بھی لاکھوں کروڑوں ڈالرز خوراک کی شکل میں آئیں گے لیکن یہ ہمارے اپنے اعداد وشمار ہیں۔
عراق کے لیے اقوام متحدہ کے تحت امدادی فنڈز کی کمی کے پیش نظر عالمی ادارہ صحت نے پہلے ہی صحت عامہ سے متعلق 220 میں سے 184 پروگرام بند کردیے ہیں جبکہ یونیسیف کا کہنا ہے کہ''عراق میں انسانی صورت حال تباہی سے دوچار ہے،ہمیں امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے اضافی وسائل درکار ہیں''۔
اقوام متحدہ کے اس ادارے کے مطابق اس وقت اسّی لاکھ عراقیوں کو فوری طور پر انسانی امداد کی ضرورت ہے اور ان میں بھی خاص طور پر جون 2014ء میں عراق کے شمالی اور شمال مغربی شہروں میں داعش کی چڑھائی کے بعد بے گھر ہونے والے قریباً تیس لاکھ افراد کو ہنگامی بنیاد پر امداد مہیا کرنے کی ضرورت ہے۔
تاہم یونیسیف کا کہنا ہے کہ عراق کے مختلف علاقوں میں داعش کے جنگجوؤں اور سرکاری سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں امدادی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہوچکی ہیں اور متاثرہ افراد کو انسانی امداد بہم پہنچانے کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔