غربِ اردن :اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے فلسطینی شہید
اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے غربِ اردن میں ایک افسر پر چاقو کا وار کرنے والے فلسطینی کو گولی مار کر شہید کردیا ہے۔گذشتہ ایک ہفتے میں اس طرح کے مبینہ واقعات میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں فلسطینی کی شہادت کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔
اسرائیلی پولیس کی خاتون ترجمان لوبا سامری نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی غربِ اردن کے شہر نابلس کے نزدیک واقع ایک چیک پوائنٹ کی جانب آیا تھا اور اس نے کہا کہ وہ بیمار ہے لیکن اس نے وہاں پہنچنے کے بعد ایک سکیورٹی افسر کو چاقو گھونپنے کی کوشش کی تھی۔اس دوران ایک اور پولیس اہلکار نے اس کو دیکھنے کے بعد گولی مار دی اور وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا ہے۔
اسرائیلی افسر چاقو لگنے سے معمولی زخمی ہوا ہے۔فلسطینی انجمن ہلال احمر نے فلسطینی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ واقعے کے بعد فوج نے علاقے کا محاصرہ کر لیا تھا اورایمبولینس کو علاقے کی جانب جانے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔اس کے بعد ایک فوجی ایمبولینس کے ذریعے لاش وہاں سے لے جائی گئی ہے۔
اسرائیلی فورسز نے ہفتے کے روز بھی غربِ اردن کے شمالی علاقے میں بارڈر پولیس کے ایک اہلکار کو چاقو گھونپنے والے فلسطینی کو گولی مار دی تھی۔اس واقعے سے چند گھنٹے قبل ایک اور چیک پوائنٹ کے نزدیک بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آیا تھا اور ایک اور فلسطینی نے مبینہ طور پر اسرائیلی فوجی کو چاقو گھونپ دیا تھا۔ اسرائیلی فوجیوں نے اس فلسطینی کو گولی مار کر زخمی کردیا تھا۔
غربِ اردن میں ایک گاؤں دوما میں 31 جولائی کو یہودی انتہا پسندوں کے ایک فلسطینی خاندان کے مکان پر حملے اور اس کو نذرآتش کیے جانے کے بعد سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔اس واقعے میں اٹھارہ ماہ کا ایک بچہ زندہ جل گیا تھا اور اس کا بڑا بھائی اور والدین شدید زخمی ہوگئے تھے۔مکان میں آتش زدگی سے اس کے والد کے جسم کا اسّی فی صد حصہ جل گیا تھا اور وہ اسپتال میں قریباً دو ہفتے تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعداگلے روز چل بسے ہیں۔