القاعدہ جنگجوؤں کی شامی ائیربیس کی جانب پیش قدمی
ہوائی اڈے کے نزدیک جھڑپوں میں 16 شامی فوجی اور 18 باغی جنگجو ہلاک
شام میں القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ اور دوسرے باغی گروپوں نے شمال مغربی صوبے ادلب میں واقع فوج کے زیر قبضہ ہوائی اڈے کی جانب پیش قدمی ہے۔
صوبے کے باقی قریباً تمام علاقوں پر النصرۃ محاذ کی قیادت میں باغی جنگجو گروپوں پر مشتمل جیش الفتح نے قبضہ کر لیا ہے اور صرف یہی ایک ہوائی اڈا اس وقت صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے کنٹرول میں رہ گیا ہے۔
برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے جمعہ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ النصرۃ محاذ اور دوسرے اسلامی گروپوں نے ابو ظہور ائیرپورٹ کے نزدیک پے درپے متعدد خودکش بم حملے کیے ہیں اور انھوں نے ہوائی اڈے کے داخلی دروازے اور فوج کے مختلف ٹھکانوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
دوسری جانب شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے دعویٰ کیا ہے کہ فوج نے النصرۃ محاذ کے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے اور ان کے ہتھیاروں اور آلات کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔
آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ اسلامی جنگجوؤں کی ہوائی اڈے کی جانب چڑھائی کے بعد شامی فوج نے ان پر فضائی حملے کیے ہیں۔لڑائی میں سولہ شامی فوجی اور اٹھارہ باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔
النصرۃ محاذ کی قیادت میں باغی گروپوں پر مشتمل اتحاد جیش الفتح نے گذشتہ مہینوں کے دوران شمال مغربی صوبے ادلب پر مکمل قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے صدر بشارالاسد کی وفادار فوج،حزب اللہ کے جنگجوؤں اور دوسرے باغی گروپوں کو نکال باہر کیا ہے۔